نئی دہلی، 17؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )مرکزی انفارمیشن کمیشن(سی آئی سی)نے 6 قومی جماعتوں کے سرکردہ لیڈروں راج ناتھ سنگھ، مایاوتی، سونیا گاندھی، پرکاش کرات، شرد پوار اور سدھاکر ریڈی کے نام نئے سرے سے نوٹس جاری کر کے ان سے آر ٹی آئی سوالات کا جواب نہیں دینے پر کارکنوں کی طرف سے دائر مقدمات میں ان کے سامنے پیش ہونے کو کہا ہے۔ان ناموں سے نوٹس اس وقت جاری کئے گئے جب شکایت کنندہ آر کے جین نے الزام لگایا کہ سی آئی سی کے رجسٹرار نے 6 قومی سیاسی پارٹیوں، بی جے پی، کانگریس، بی ایس پی، این سی پی، سی پی ایم اور سی پی آئی کے خلاف ان کی شکایات سے نمٹنے میں دوہرا معیار اپنایاہے ۔ جہاں یہ نوٹس صرف سونیا گاندھی کے نام سے نوٹس بھیجا گیا جبکہ دیگر نوٹس پارٹی سربراہان کومخاطب کرکے بھیجے گئے ہیں ۔سی آئی سی نے 2013میں آر ٹی آئی قانون کے تحت ان پارٹیوں کو جوابدہ قرار دیا تھا جس کے بعد جین نے فروری 2014میں کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں کو آر ٹی آئی درخواست بھیج کر ان کے چندوں ، اندرونی انتخابات وغیرہ کی معلومات مانگی تھی اور ان سے کوئی جواب نہیں ملنے پر سی آئی سی میں شکایت داخل کی۔ان لیڈروں سے 22؍جولائی کو کمیشن کی مکمل بنچ کے سامنے حاضر ہونے کو کہا گیا ہے۔بنچ میں انفارمیشن کمشنر بمل جلکا، سری د ھر اچایہ ر لو اور سدھیر بھارگو ہوں گے جو جین کی درخواست پر سماعت کرے گی۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا نوٹس لیا جائے کہ اگر آپ 20؍جولائی 2016تک اپنے تبصرے اور جواب دینے میں ناکام رہتے ہیں اور مذکورہ تاریخ اور وقت پر موجود نہیں رہتے ہیں تو سمجھا جائے گا کہ آپ کو اپنے دفاع میں کچھ نہیں کہنا ہے اور آگے معاملے میں کارروائی قانون کے مطابق کی جائے گی۔اس سے پہلے ایک نوٹس سونیا گاندھی کے نام سے اور دیگر پارٹیوں کو ان کے صدور ، جنرل سکریٹریوں کے نام سے بھیجے گئے تھے جس کی جین نے مخالفت کی تھی اور چیف انفارمیشن کمشنر سے شکایت کی تھی۔
جین نے سی آئی سی کے رجسٹرار ایم کے شرما کے خلاف چیف انفارمیشن کمشنر آر کے ماتھر کو بھیجی اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ شرما نے سونیا گاندھی کو کانگریس صدر کے نام سے نوٹس بھیجا، وہیں راج ناتھ سنگھ، پرکاش کرات، شرد پوار، مایاوتی اور ایس سدھاکر ریڈی کے نام ہٹا دیئے گئے جبکہ شکایات میں ان کے نام واضح طور پر لکھے تھے۔اس طرح دو ہرا معیار اپنایا گیا۔جین نے مثال دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی شکایت میں سابق بی جے پی صدر راج ناتھ سنگھ کا نام واضح طور پر درج تھا، جبکہ رجسٹرار نے موجودہ نوٹس بی جے پی صدر لکھ کر بھیجا۔انہوں نے الزام لگایاکہ فی الحال امت شاہ بی جے پی کے صدر ہیں، اس طرح راج ناتھ سنگھ کو ایم کے شرما نے غیر قانونی طریقے سے اور بالواسطہ طور پر چھوڑ دیا۔