ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / سابق وزیراعلیٰ دھرم سنگھ چل بسے، تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان، آج آبائی گاؤں جیورگی میں آخری رسومات

سابق وزیراعلیٰ دھرم سنگھ چل بسے، تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان، آج آبائی گاؤں جیورگی میں آخری رسومات

Thu, 27 Jul 2017 21:33:12    S.O. News Service

بنگلورو:27؍/ جولائی(ایس او  نیوز) سینئر کانگریس سیاستدان اور سابق وزیر اعلیٰ این دھرم سنگھ آج چل بسے۔ کچھ دنوں سے پھیپھڑوں کی شکایت کے سبب علیل دھرم سنگھ کو پہلے ساگر اپولو اور بعد میں ایم ایس رامیا اسپتال میں داخل کروایا گیا، صحت یابی کے بعد آج دوبارہ انہیں سینے میں درد کی شکایت پر رامیا اسپتال میں داخل کرایا گیا،جہاں حرکت قلب بند ہونے سے ان کی موت ہوگئی۔ 80 سالہ دھرم سنگھ کے پسماندگان میں ان کی بیوہ پربھاوتی ، بڑے فرزند رکن کونسل وجئے سنگھ ، چھوٹے فرزند رکن اسمبلی ڈاکٹر اجئے سنگھ اور ایک بیٹی کے علاوہ بہت بڑا خاندان شامل ہے۔ پسماندہ طبقات سے وابستہ دھرم سنگھ کا تعلق گلبرگہ کے جیورگی سے تھا۔ ابتدائی تعلیم سے ہی اردو زبان وادب سے وابستگی کے سبب بحیثیت وزیر اعلیٰ بھی انہوں نے اردو سے اپنا تعلق بہت گہرا رکھا۔ ایک معمولی کانگریس کارکن کی حیثیت سے سابق وزیراعلیٰ آنجہانی دیوراج ارس کے دور اقتدار میں وہ بطور رکن اسمبلی منتخب ہوئے، بعد میں انہیں وزارت ملی ، اپوزیشن لیڈر بنے ، کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی صدر بنے اور2004-06تک ریاست کی پہلی کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت میں 20 ماہ وزیر اعلیٰ رہے۔ جنتادل(ایس ) کے قومی سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈ ا کے انتخاب پر وزیر اعلیٰ بننے والے دھرم سنگھ 20ماہ اس عہدہ پر بنے رہے۔جیورگی اسمبلی حلقہ سے سات مرتبہ منتخب دھرم سنگھ شہری ترقیات ، داخلہ ، سماجی بہبود، مالگذاری اور تعمیرات عامہ کی وزارتوں پر کام کرچکے ہیں۔ گلبرگہ لوک سبھا حلقہ سے منتخب دھرم سنگھ گزشتہ میعاد میں پانچ سال یہاں سے نمائندگی کرتے رہے، اس مرتبہ بیدر پارلیمانی حلقہ سے بھی وہ دو مرتبہ نمائندگی کرچکے ہیں۔ کانگریس کے ایک اور سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کے رہنماملیکارجن کھرگے کے ساتھ سیاست میں ہمسفر رہنے والے دھرم سنگھ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ناکام ہوگئے۔ اس سے پہلے جیورگی اور گرمتکل حلقوں دونوں میں مسلسل منتخب ہوتے رہے ہیں۔ 25؍ دسمبر 1936کو دھرم سنگھ جیورگی تعلق کے نیلگی دیہات میں پیدا ہوئے ، ایم اے اور قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پہلی بار وہ پیشہ وکالت چھوڑ کر 1977 میں پسماندہ طبقات کمیشن کے ممبر بنے اور ہند سوویت یوتھ کانفرنس میں ہندوستان کے نمائندہ بن کر سوویت یونین گئے۔ بعد میں بحیثیت رکن اسمبلی منتخب ہوکر وہ ویریندرا پاٹل، بنگارپا، ویرپا موئیلی، ایس ایم کرشنا کی حکومتوں میں کابینہ درجہ کے وزیر رہے۔ سابق وزیراعظم اندرا گاندھی ، راجیو گاندھی اور موجودہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے وفاداروں میں شمار کئے جانے والے دھرم سنگھ نے سبھی سیاسی حلقوں میں یکساں تعلقات قائم کئے تھے اور انہیں ایک نرم دل اور ہمدرد انسان کے طور پر یاد کیاجائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی ،صدر کانگریس سونیاگاندھی، وزیراعلیٰ سدرامیا ، گورنر واجو بھائی والا اور دیگر سرکردہ سیاسی قائدین نے دھرم سنگھ کی موت پر اپنے گہرے صدمے کا اظہار کیا اور کہا کہ دھرم سنگھ کی موت سے کرناٹک ایک اچھے سیاست دان سے محروم ہوگیا۔ دھرم سنگھ کی یاد میں ریاستی حکومت نے تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیاہے۔ اگلے تین دنوں تک تمام سرکاری پروگرام منسوخ کردئے گئے ہیں اور سرکاری دفاتر پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ اپنے دیرینہ ساتھی دھرم سنگھ کی موت کی اطلاع پاکر لوک سبھا میں کانگریس پارٹی لیڈر ملیکارجن کھرگے بنگلور پہنچے اور دھرم سنگھ کو دیکھ کر زار وقطار رونے لگے۔ انہوں نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ان سے ایک بہت اچھا دوست چھن گیا ہے۔ یہ دونوں ایک ساتھ رکن اسمبلی بنے ، رکن پارلیمان بنے۔ اب ایک دیرینہ دوست کا ساتھ چھوٹ گیا ہے۔ 


Share: