ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی مانسون کی پہلی بارش سے جل تھل، کئی علاقے زیرآب، ٹریفک نظام درہم برہم، جون میں ہونے والی بارش کا88سالہ ریکارڈ پہلے ہی دن ٹوٹا

دہلی مانسون کی پہلی بارش سے جل تھل، کئی علاقے زیرآب، ٹریفک نظام درہم برہم، جون میں ہونے والی بارش کا88سالہ ریکارڈ پہلے ہی دن ٹوٹا

Sat, 29 Jun 2024 18:07:00    S.O. News Service

نئی دہلی، 29/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) قومی راجدھانی دہلی، نوئیڈا،غازی آباد سمیت این سی آر  میں ابر رحمت کے جم کر برسنے سے جہاں شہریوں کو گرمی کی شدت سے راحت ملی ،وہیں لگاتار جھماجھم بارش سے شہر کا منظر جھیل اور تالاب میں تبدیل ہوگیا ہے۔ جمعرات کو رات بھر اور جمعہ کو صبح میں بھی ہونیوالی تیز بارش اور ہواؤں کی وجہ سے کئی مقامات پر درخت اوربجلی کے کھمبے گرنے کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ  بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے سے کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ اس باعث کئی علاقوں میں ٹریفک نظام درہم برہم رہا۔اس سے لوگوں کو بڑی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بالخصوص ملازمت پیشہ افراد اورکاروباری افرادمتاثر ہوئے۔

ہندوستانی محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی کے صفدر جنگ علاقہ میں جمعرات کی  شب  ۱ء۲۲۸؍ ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ ۱۹۳۶ء کے بعد جون کے مہینہ میں دہلی میں ۲۴؍ گھنٹہ میں ہونے والی یہ سب سے زیادہ بارش ہے۔گزشتہ ۳۰؍ سال میں اوسط بارش کا ریکارڈ ۲ء۷۵؍ رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ  ۲۹؍ جون کو ہلکی پھلکی بارش کا امکان ہے۔اس کے بعد ۳۰؍ جون سے ۲؍جولائی تک موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔اس دوران درجہ حرارت میں گراوٹ آئے گی۔ معلوم ہوکہ سنیچر کو دہلی کا کم ازکم درجہ حرارت ۲۵؍ڈگری اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ۳۳؍ ڈگری رہنے کا امکان ہے۔

 جمعرات سے شروع ہونیوالی بارش  کے تیور جمعہ کی صبح میں بھی کم نہ ہوئے۔ بادلوں کے گھن گرج کے ساتھ برسنے سے دہلی پانی پانی ہوگیا۔  موسم کی پہلی بارش نے انفراسٹرکچر اور نکاسی کے نظام کی پول کھول دی۔  شہر کےکئی علاقے  جھیل اور تالاب کا منظر پیش کرنے لگے۔ایک طرف جہاں دہلی کے باشندوں نے گرمی کی شدید لہر سے راحت ملنے پر سکون کا اظہار کیا، وہیں متعدد علاقوں میں پانی جمع ہوجانے کی وجہ سے لوگوں کو کافی دشواریاں بھی پیش آئیں۔

 آئی ٹی او چوراہے، مِنٹو روڈ سے لے کر کناٹ پیلیس تک بھرجانے سے کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام رہا۔ کئی سڑکوں پر پانی  بھرنے سے موٹر کاریں ڈوب گئی تھیں۔ تلک بریج ڈبلیو پوائنٹ کے پاس پانی بھرنے سے اے پوائنٹ  سے ڈبلیو پوائنٹ تک اور اسکے متوازی دونوں کیریج وے پر ڈبلیو پوائنٹ تلک بریج روڈ پر آمدورفت متاثر رہی۔   نیز  بہادر شاہ ظفر مارگ اور وکاس مارگ پر ٹریفک متاثر ہے۔ پانی بھر جانے اور متھرا روڈ کی خراب حالت کی وجہ سے پرگتی میدان ٹنل کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔  پیرا گڑھی گاؤں کی سڑک کے قریب پانی بھرنے کے سبب  بھیرا انکلیو چوراہے سے پیر گڑھی جانے والے کیریج وے میں بیرونی رنگ روڈ پر ٹریفک متاثر ہو رہا ہے۔ منٹو برج انڈر پاس پر پانی بھر جانے کی وجہ سے کملا مارکیٹ سے کناٹ پلیس کی طرف جانے اور آنے والا کیریج ویز متاثر ہے۔ اطلاعات کے مطابق جوالا ہی مارکیٹ کے سامنے درخت گرنے سے مارکیٹ سے ماڑی پور جانے والی سڑک پرگاڑیوں کی قطاریں لگ گئی تھیں۔ گول چکر مرغا منڈی، غازی پور بارڈر پر پانی بھر جانے کی وجہ سے اکشردھام سے غازی آباد کی طرف اوراسکے  مخالف جانے والے دونوں کیریج ویز پر ٹریفک متاثر ہوا ہے۔  اوکھلا انڈر پاس میں بھی  پانی بھر گیا ہے ۔ متھرا روڈ پر آشرم سے بدر پور جانے والی سڑک پر درخت گرنے کی اطلاع ہے۔

 تادم تحریر۳؍ حادثات میں ۵؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ آئی جی آئی ہوائی اڈے پر ایک شخص کی موت ہوئی جبکہ وسنت وہار میں  بی بلاک میں زیر تعمیر مکان کے تہہ خانے کے قریب ٹین کا شیڈ گرنے سے تین مزدوروں کی موت ہو گئی۔تہہ خانے کا کھودا ہوا حصہ پانی اور مٹی سے بھرا ہوا تھا۔ اسکے ساتھ مزدوروں نے ایک عارضی ٹین شیڈ بنا رکھا تھا۔ اچانک ایک درخت ٹوٹ کر ٹین شیڈ پر گرا۔مزدور تہہ خانے کے کھدائی والے حصے میں دب گئے۔پولیس، فائر ڈپارٹمنٹ، این ڈی آر ایف اور دیگر ٹیمیں ریسکیو آپریشن کر رہی ہیں۔ وہیں کڑاری میں جمعہ کی صبح پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے حادثے میں ایک نوجوان اس وقت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جب اس نے بازار میں اپنی دکان کے باہر لگے لوہے کے پائپ کو چھو لیا۔بتایا جاتا ہے کہ پائپ میں کرنٹ دوڑرہا تھا۔  

 بی جے پی کے ایک کاؤنسلر روندر سنگھ نیگی نے  ناقص انتظامات کے خلاف انوکھا احتجاج کیا۔ نیگی نے  دہلی میونسپل کارپوریشن کی ناکامی کو اجاگر کرنے کیلئے  سڑک پر جمع پانی میں کشتی چلائی۔قابل ذکر ہے کہ اراکین پارلیمان کی رہائش کا علاقہ ’لٹئین‘ بھی زیر آب  آنے سے سوشل میڈیا پر موضوع بحث رہا ۔ کانگریس ایم پی ششی تھرور نے ایکس پر تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی رہائش گاہ کے باہر پورے علاقے میں پانی بھرا ہوا ہے۔


Share: