ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / شمشان اراضی کی قلت ختم کرنے کا منصوبہ: حکومت نجی زمین تین گنا قیمت پر خریدے گی، کرشنا بائرے گوڑا کا اعلان

شمشان اراضی کی قلت ختم کرنے کا منصوبہ: حکومت نجی زمین تین گنا قیمت پر خریدے گی، کرشنا بائرے گوڑا کا اعلان

Tue, 17 Mar 2026 12:30:03    S O News

بنگلورو ، 17/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) ریاستی وزیر برائے محصولات کرشنا بائرے گوڑا نے کہا ہے کہ جن دیہاتوں میں شمشان کی زمین دستیاب نہیں ہے وہاں اگر سرکاری زمین میسر نہ ہو تو حکومت گائیڈ لائن قیمت سے تین گنا زیادہ رقم ادا کر کے نجی زمین خریدنے کے لیے تیار ہے۔

پیر کے روز ریاستی اسمبلی میں اوراد حلقہ کے رکن اسمبلی پربھو چوہان کے سوال کے جواب میں وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ تقریباً ستر برسوں کے دوران مختلف حکومتوں نے دستیاب سرکاری زمین کا بڑا حصہ کسانوں اور عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے مختص کر دیا، جس کی وجہ سے اب کئی دیہاتوں میں شمشان کے لیے زمین دستیاب نہیں رہی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس برسوں سے حکومتیں رہائشی علاقوں کی ضروریات کے مطابق شمشان اراضی فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس معاملے میں ہائی کورٹ بھی حکومت کو ہدایات دے چکی ہے۔ جہاں سرکاری زمین دستیاب ہے وہاں اسے شمشان کے لیے مختص کیا جا رہا ہے، جبکہ جہاں سرکاری زمین نہیں ہے وہاں نجی زمین خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران حکومت شمشان کے لیے زمین خریدنے پر 58 کروڑ روپے خرچ کر چکی ہے۔

انہوں نے اوراد تعلقہ کی صورتحال کے بارے میں بھی ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلقہ کے 154 رہائشی علاقوں میں سے 9 علاقوں میں شمشان کی سہولت موجود نہیں ہے۔ ان میں سے 2 دیہاتوں میں سرکاری زمین دستیاب ہے اور ایک ہفتہ کے اندر اسے شمشان کے لیے مختص کرنے کے احکامات ضلعی انتظامیہ کو جاری کر دیے گئے ہیں۔

باقی 7 دیہاتوں کے لیے قریبی علاقوں میں موجود زمین کو پندرہ دن کے اندر مختص کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اگر وہ زمین مناسب نہ ہوئی تو حکومت نجی زمین خریدنے کی تجویز پر عمل کرے گی اور اس کے لیے گائیڈ لائن قیمت سے تین گنا زیادہ رقم ادا کرنے کو بھی تیار ہے۔

وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ شمشان کے لیے حصار بندی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی نریگا اسکیم کے تحت گرام پنچایتوں کے ذریعے کی جائے گی اور اس سلسلے میں ضلع کلکٹر اور پنچایت سی ای او کو ضروری ہدایات دی جائیں گی۔


Share: