نئی دہلی14؍جولائی(ایس اونیوز)گریٹر نوئیڈا عدالت نے حکم دیا ہے کہ دادری میں ہوئے اخلاق کے خاندان پر گاو کشی کا مقدمہ درج کرے. روزنامہ اعتماد میں شائع خبر کے مطابق گریٹر نوئیڈا کورٹ میں چلی تین ماہ کی سماعت کے بعد عدالت نے محمد اخلاق سمیت چھ لوگوں پر گائوكشي کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے. کورٹ نے جارچا تھانے کو حکم دیا ہے کہ مقدمہ درج کرکے انکوائری رپورٹ عدالت میں جمع کرائے.
دراصل اس سال اپریل میں متھرا فورینسیکلیب کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ٹیسٹ کے لئے بھیجا گیا گوشت گائے کا تھا. اسی رپورٹ کو بنیاد بنا کر بساهڑا کے رہنے والے سورجپال نے اخلاق کے خاندان پر گائے کے قتل کا مقدمہ درج کرانے کی درخواست لگائی تھی. تاہم قانونی ماہرین مانتے ہیں کہ محمد اخلاق کے قتل کے معاملے میں انیس افراد کے خلاف درج مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا.
خیال رہے کہ بساهڑا گاؤں کے لوگوں نے الزام لگایا تھا کہ اخلاق کے خاندان نے بقرعید پر ایک بچھڑے کو ذبح کیا ہے. گاؤں والوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ گوشت اخلاق کے گھر سے برآمد ہوا ہے.عدالت میں پیر کو ہوئی سماعت کے دوران یہ معاملہ سامنے آیا تھا کہ جب 22 دسمبر 2015 کو افسر نے اپنی رپورٹ عدالت کو سونپی تو اس میں یہ ذکر نہیں تھا کہ اس وقت تک متھرا لیب سے گوشت کی رپورٹ آ گئی ہے. افسر نے اپنے اسی رپورٹ میں کہا تھا کہ جب لیب کی رپورٹ آ جائے گی تب وہ اسے عدالت کو سونپ دیں گے.
اس درمیان مدعا علیہان کے وکیل نے دعوی کیا تھا کہ انہیں آر ٹی آئی کے ذریعہ پتہ چلا کہ گوشت کا ٹکڑا بچھڑے کا ہے.
یاد رہے کہ بساهڑا گاؤں کے لوگوں نے گزشتہ سال ستمبر میں اخلاق کویہ کہہ کر پیٹ پیٹکر ہلاک کر دیا تھا کہ اس کے گھر پر گائے ذبح کی گئی ہے، بعد میں اس کی فریج کے اندر موجود بکرے کا گوشت حاصل کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ یہ گائے کا گوشت ہے، مگر بعد میں حیررآباد کی فورنسیک لیب سے رپورٹ جاری کی گئی تھی کہ فریج کے اندر موجود گوشت بکرے کا ہے۔ اس درمیان متھرا کی فورنسیک لیب کی رپورٹ بھی آنے کی بات میڈیا میں آئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ متھرا کی فورنسیک لیب نے رپورٹ دی ہے کہ متعلقہ گوشت گائے کا ہی تھا۔