دہرادون، 18؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )اتراکھنڈ میں پلاسٹک کی وجہ سے ہورہی آلودگی کو کم کرنے، عوامی مقامات پر کور ا ڈالنے اور تھوکنے پرپابندی لگانے کے لیے جلد ہی قانون لایا جائے گا ۔وزیر اعلی ہریش راوت کی صدارت میں کل دیر شام ہوئی ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیاگیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پلاسٹک کا سامان بنانے والی اکائیاں پلاسٹک کو دوبارہ خریدنے کے لیے متعلقہ ڈسٹری بیوٹرس اورا سٹاکسٹ کے ذریعے یہ ذمہ داری نبھائیں گی۔پلاسٹک سے ہونے والی آلودگی کو کم کرنے اورماحولیات کوبہتربنانے کے لیے اتراکھنڈ حکومت اس سلسلے میں جلد ہی ایک قانون بھی لائے گی ۔اس کے علاوہ، کابینہ نے عوامی مقامات پر تھوکنے اور کوڑا پھینکنے پر پابندی لگانے کے لیے بھی ایک قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ایسا کرتے پائے جانے پر موقع پر ہی 1000روپے کا جرمانہ وصول کئے جانے کی تجویز ہو گی ۔ایڈونچر کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے ریوررافٹنگ کو ٹیکس فری کرنے اور ایرو اسپورٹس ، ہا ٹ بیلون کو تین سال تک انٹرٹینمنٹ ٹیکس سے فری رکھنے، پیکٹڈ نمکین پرٹیکس 13.5فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔اسکولوں میں دئیے جانے والے مڈڈے میل میں طلبہ و طالبات کو ہفتے میں ایک دن پانچ روپے اضافی بطورخوراک الاؤنس دئیے جانے اور اس میں مقامی پھل، دودھ،انڈے وغیرہ شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔کابینہ نے سرکاری پرائمری اسکولوں میں اردو کے 130، بنگالی کے 25اور گرومکھی کے 10اساتذہ کی تقرری کرنے کا فیصلہ بھی لیا۔کساؤ کثیر اہداف منصوبے کی تعمیر کے لیے ہماچل پردیش کے ساتھ معاہدے کے تحت بنائی جانے والی مشترکہ وینچر کمپنی کو بھی کابینہ نے منظوری دے دی ہے ۔ریاست کی صنعتی ترقی میں زیادہ سے زیادہ خواتین کی حصہ داری کو یقینی بنانے کے لیے خواتین انڈسٹریل پارک کے قیام کا فیصلہ بھی کابینہ نے لیاہے ۔