ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ترکی میں بغاوت کے بعد 8ہزار پولیس اہلکار رہا

ترکی میں بغاوت کے بعد 8ہزار پولیس اہلکار رہا

Mon, 18 Jul 2016 18:13:05    S.O. News Service

استنبول،18جولائی؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ترکی کے ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ دارلحکومت انقرہ اور دوسری اہم شہر استنبول سمیت ملک کے مختلف شہروں سے پولیس کے آٹھ ہزار اہلکاروں کو تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق ان پولیس اہلکاروں کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ جمعہ کے روز ملک میں ناکام فوجی بغاوت میں کسی نہ کسی طرح ملوث تھے۔ترک حکومت نے یہ اقدام ناکام فوجی بغاوت کے بعد اٹھایا ہے۔ حکومت کی رائے میں اس بغاوت کا ماسٹر مائینڈ ملک میں متوازی حکومت کے دعویدار امریکا میں مقیم ترک اسلامی دانشور اور مبلغ فتح اللہ گولن ہیں، جو انقرہ کے ان الزامات کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔بعض مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی انجمنوں نے ترکی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خدشتہ ظاہر کیا ہے کیونکہ ترک صدر نے ایک بیان میں عندیہ ظاہر کیا ہے کہ وہ سزائے موت کے قانون کو از سر نو روبعمل لا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ترکی میں 2004ء سے سزائے موت پر پابندی عاید ہے۔ترک وزیر انصاف باقر بوزداگ نے اتوار کی صبح ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے شبے میں چھے ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں بڑی تعداد ججوں اور پراسیکیوٹر جنرل کی ہے۔
 


Share: