بیلگاوی ، 29 / جون (ایس او نیوز) بجلی سپلائی کمپنی ہیسکام کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر کے خلاف جنسی ہراسانی کا معاملہ درج کروانے والی ہیسکام کی اسسٹنٹ انجینئر سمیت ہیسکام کے 13 افسران و اہلکاروں کو چیف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنس کورٹ کی جج وجئے لکشمی دیوی نے ساڑھے تین سال کی قید اور فی کس 86 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے ۔
جھوٹے مقدمے کے لئے عدالت سے سزا پانے والوں کی شناخت ہیسکام کی اسسٹنٹ انجینئر بی وی سندھو، اسسٹنٹ لائن مین ناتھاجی پاٹل، اسسٹنٹ ایکزیکٹیو انجینئر اجیت پجاری، اسسٹنٹ لائن مین ملسرجا شاہپورکر، جونیئر انجینئر سبھاس ہلّولّی، لائن مین ایرپّا ایم پتّار، سپروائزر ملیکاارجن، سینئر اسسٹنٹ بھیمپّا، اسٹیشن اٹینڈنٹ گریڈ ۲ راجیندرا، اکاونٹنٹ سریش کامبلے، لائن مین ایریّا گوریّا ہیرے مٹھ، ریٹائرڈ اسسٹنٹ داکشایانی مہادیوی کے طور پر کی گئی ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ ہیسکام کی اسسٹنٹ انجینئر میسور کی رہنے والی بی وی سندھو نے 19 نومبر 2014 کو ہیسکام کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر توکا رام مجّگی پر جنسی ہراسانی کا الزام لگاتے ہوئے مالا ماروتی پولیس تھانے میں شکایت درج کروائی تھی ۔
پولیس کے تحقیقاتی افسر نے اس معاملے کی تفتیش کے بعد اس میں کوئی واضح ثبوت نہ ملنے کی بات کہتے ہوئے عدالت میں 'بی' رپورٹ داخل کی تھی۔ اس کے بعد شکایت کنندہ خاتون نے توکا رام کے خلاف ایک اور معاملہ درج کروایا کہ وہ مقدمہ واپس لینے کے لئے فون کرکے اس پر دباو ڈال رہا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکی دے رہا ہے ۔
اس کے بعد بی وی سندھو نے پولیس پر کوئی کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اور خودکشی پر اکسانے کے لئے توکا رام ہی ذمہ دار ہونے کا الزام لگاتے ہوئے تیسرا مقدمہ دائر کیا ۔ اس معاملے میں توکا رام کو گرفتار کیا گیا اور اسے 9 دن تک عدالتی حراست میں رہنا پڑا تھا ۔
پولیس نے تحقیقات کے بعد عدالت میں بی رپورٹ داخل کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ جس سے ثابت ہوا کہ ملزمین نے توکا رام کو محکمہ سے برخاست کرنے کے لئے سازش رچی تھی اور اس کے خلاف جھوٹے گواہوں کے ساتھ مقدمہ دائر کیا تھا ۔