ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی بی ایم پی کے اقتدار پر قابض ہونے بی جے پی کوشاں؛ جے ڈی ایس کے ساتھ مفاہمت کیلئے اننت کمار سرگرم

بی بی ایم پی کے اقتدار پر قابض ہونے بی جے پی کوشاں؛ جے ڈی ایس کے ساتھ مفاہمت کیلئے اننت کمار سرگرم

Sun, 14 Aug 2016 10:52:23    S.O. News Service

بنگلورو13؍اگست(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور)برہت بنگلور مہانگر پالیکے میں گزشتہ ایک سال سے کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملاکر اقتدار پر قابض جنتادل (ایس) نے اب ایسا لگتا ہے کہ اپنا ارادہ بدل لیا ہے، اور بی جے پی کے ساتھ مفاہمت پر آمادہ نظر آرہی ہے۔ اگلے میئر کا عہدہ کس سیاسی جماعت کے حق میں جاتاہے اس کو لے کر ابھی سے قیاس آرائیاں شدت اختیار کرگئی ہیں۔ بی جے پی کو قوی توقع ہے کہ کانگریس اور جنتادل (ایس) کے درمیان جو اتحاد قائم ہے وہ عنقریب ٹوٹ جائے گا، اور بی جے پی کے کسی کارپوریٹرکو بنگلور کا میئر بننے کا موقع مل جائے گا۔حال ہی میں سابق وزیر اعظم اور جنتادل(ایس) سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا نے بھی کانگریس سے اتحاد توڑ لینے کا اشارہ دیاتھا اور کہاتھاکہ جلد ہی وہ اس سلسلے میں پارٹی کے ریاستی صدر ایچ ڈی کمار سوامی سے تبادلۂ خیال کے بعد قطعی فیصلہ کرنے والے ہیں۔ میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدہ حاصل کرنے یا نہ کرنے کے متعلق کانگریس قیادت کی طرف سے اب تک کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔اس دوران ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کی طرف سے بی بی ایم پی میں جے ڈی ایس کے ساتھ مفاہمت کے خلاف پارٹی لیڈران کو انتباہ کیا گیا ہے۔ یڈیورپا کا یہ انتباہ کانگریس کیلئے راحت بخش ثابت ہوسکتا ہے۔تاہم آج مرکزی وزیر اننت کمار نے اشارہ دیا کہ بی بی ایم پی کیلئے اگلا میئر بی جے پی کارپوریٹر ہی ہوگا۔اس کیلئے پارٹی جے ڈی ایس کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے ایک سال قبل تک بی بی ایم پی کے اقتدار پر بی جے پی کا قبضہ تھا، پانچ سال اپنے اقتدار کی مدت میں بی جے پی نے جو فیصلے کئے تھے ان سے بی بی ایم پی کو ہوئے نقصانات کی تفصیل عوام کے سامنے رکھ کر عوام کے سامنے رکھ کر کانگریس نے اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوپائی۔ اب چونکہ بی جے پی بی بی ایم پی میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اسی لئے کسی بھی طرح اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے وہ اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئی ہے۔ دیکھنا ہے کہ شہر کے تینوں جے ڈی ایس اراکین اسمبلی جنہوں نے پارٹی کے خلاف بغاوت کردی ہے ان کے وفادار کارپوریٹروں کا رویہ کیا رہے گا، اگر ان کارپوریٹروں نے پارٹی کی حکم عدولی کرتے ہوئے کانگریس کا ساتھ دیاتو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ بصورت دیگر بی بی ایم پی کے اقتدار سے کانگریس کو ہاتھ دھونا پڑ سکتاہے۔ 


Share: