بنگلورو:18/ جولائی(ایس او نیوز) برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی طرف سے متعین گندگی کی نکاسی کیلئے استعمال میں آنے والی گاڑیاں بار بار خراب ہوجاتی ہیں اور ان کی مرمت کے بہانے خطیر رقومات حاصل کی جاتی ہیں۔ آج اس معاملے کا بذات خود مشاہدہ کرنے اور دھاندلیوں کا پتہ لگانے کیلئے میئر جی پدماوتی نے اعلیٰ افسران کے ساتھ دورہ کیاتو وہ خود یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئیں کہ شہر میں گندگی کی نکاسی کیلئے متعین 125 کامپیاکٹر گاڑیاں مرمت کیلئے رکی ہوئی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی درستی نہ کئے جانے پر میئر نے بی بی ایم پی افسران کو آڑے ہاتھوں لیا۔شہر کے ٹاؤن ہال کے روبرو مائی شوگر بلڈنگ سے متصل کارپوریشن کی زمین پر ناکارہ کامپیاکٹر، مردہ گاڑیاں اور دیگر کاریں وغیرہ پارک کردی گئی تھیں۔ آج میئر نے ان تمام گاڑیوں کا معائنہ کیا۔ حالانکہ میئر کو بتایا گیا کہ خراب ہوجانے کے سبب ان گاڑیوں کو یہاں کھڑا کیا گیاہے،لیکن میئر نے جب اپنے عملے سے ان گاڑیوں کو چالو کروایا تو یہ بات سمجھ میں آئی کہ گاڑیوں میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ غیر ضروری طور پر ان گاڑیوں کو کھڑا کیا گیا ہے، میئر نے ہدایت دی کہ فوری طور پر ان گاڑیوں کو یہاں سے ہٹایا جائے۔انہوں نے کہاکہ شہر میں گندگی کی نکاسی کیلئے گاڑیوں کی کمی کی شکایت کی جاتی ہے، جس کے سبب بی بی ایم پی نے نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اتنی بڑی تعداد میں گاڑیاں بغیر استعمال کے کھڑی ہوئی ہیں پہلے انہیں استعمال میں لایا جائے، نئی گاڑیوں کی خریداری کے منصوبے کو میئر نے پس پشت ڈال دیا۔ انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ بی بی ایم پی کو دیگر مقاصد کیلئے بڑی تعداد میں گاڑیوں کی ضرورت ہے، افسران اس کیلئے بارہا انہیں منصوبے روانہ کرتے ہیں۔ اب اس پارکنگ لاٹ میں رکی ہوئی تمام گاڑیوں کو استعمال میں لایا جائے گا اور ساتھ ہی دیگر پارکنگ لاٹ کی نشاندہی بھی کی جائے گی جہاں پر اسی طرح گاڑیاں کھڑی کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بی بی ایم پی کی طرف سے جتنی بھی گاڑیاں خریدی جائیں گی، ان پر نظر رکھنے اور تمام کو استعمال میں لانے کیلئے ایک خصوصی آفیسر کا تقرر بھی جلد کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ بی بی ایم پی نے کامپیاکٹر گاڑیوں کی کمی کے سبب 25کامپیاکٹر گاڑیاں کنٹراکٹ پر حاصل کی ہیں، اب ان کنٹراکٹوں کو ختم کرکے بی بی ایم پی کی ہی اپنی گاڑیاں استعمال میں لائی جائیں گی۔ میئر نے اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی موجودگی کو نظر انداز کرنے پر افسران کو آڑے ہاتھوں لیا۔