بنگلورو۔12/اگست(عبدالحلیم منصور/ایس او نیوز) شہر بنگلور میں بڑے نالوں پر غیر قانونی قبضوں کیلئے ذمہ دار سرکاری افسران پر کارروائی کی جاچکی ہے۔ اب ان نالوں پر قبضوں کیلئے ذمہ دار بلڈروں کی باری ہے۔ ریاستی حکومت خاطی بلڈروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے گی۔ یہ بات آج وزیراعلیٰ سدرامیا نے کہی۔ میسور میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی بی ایم پی اور سرکاری دستاویزات میں جو نقشے ہیں ان کی بنیاد پر بڑے نالوں پر تعمیر شدہ غیر مجازی عمارتوں کو ڈھایا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس انہدامی مہم میں غریبوں کو نشانہ بنائے جانے اور امیروں کو بخش دئے جانے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہدامی مہم کے دوران اپارٹمنٹوں، شامپنگ مالس اور دیگر بڑی بڑی عمارتوں کو بھی منہدم کیاگیا ہے۔کسی بھی غیر قانونی قابض کے مقام اور مرتبے کی پرواہ کئے بغیر بی بی ایم پی کے افسران اور عملے نے انہدامی کارروائی چلائی ہے۔اس کیلئے یہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہدامی مہم کو آئندہ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ اس مہم کے دوران جتنے بھی بڑے بلڈرس کی عمارتیں حائل ہوں انہیں ڈھادیا جائے گا۔ حکومت نقشے کے مطابق کارروائی کرے گی۔ کسی کے دباؤ میں آنے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ غیر قانونی طور پر سرکاری زمین پر قبضہ کرکے اپنی بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرنے والے بلڈروں کے خلاف فوجداری مقدمات دائر کئے جارہے ہیں۔ ان بلڈروں اور مکان مالکان کے ساتھ ساز باز کے الزام میں 20 سرکاری افسران پر فوجداری مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ جو سرکاری افسران وظیفہ یاب ہونے کے بعد راہ فرار کرچکے ہیں ان کی بھی نشاندہی کے احکامات جاری کردئے گئے ہیں۔ مہادائی کلسا بنڈوری تحریک کے دوران گرفتار شدہ کسانوں کی ضمانت پر رہائی پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ عدالت میں ان کسانوں کی ضمانت عرضی کی سماعت کے دوران حکومت نے ضمانت کے حق میں اپنی رائے دی، جس کے سبب عدالت نے انہیں رہا کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی یہ ہدایت دی جاچکی تھی کہ پولیس یا سرکاری وکلاء کی طرف سے کسانوں کی ضمانت پر کوئی اعتراض درج نہ کیا جائے۔اسی لئے عدالت نے ان کسانوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام کسانوں پر درج مقدمات بیک وقت واپس لینے میں تکینکی رکاوٹیں حائل تھیں، اسی لئے چارج شیٹ درج کرنے کے بعد انہیں ضمانت ملی ہے۔عنقریب ان رکاوٹوں کو دور کرکے مقدمات بھی واپس لے لئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیانے جو آج 68برس کے ہوگئے جنم دن کی مبارکباد قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ فی الوقت ذہنی طور پر وہ ایسی صورتحال میں نہیں کہ وہ اپنا جنم دن مناسکیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ کوئی بھی ان کے جنم دن کا اہتمام ہرگز نہ کریں اور نہ ہی جنم دن کی خوشی میں مٹھائیاں وغیرہ تقسیم کی جائیں۔ سدرامیا نے کہاکہ اپنے فرزند راکیشن کو کھونے کے دکھ سے ابھی وہ باہر نکل نہیں پائے ہیں، اسی لئے وہ جنم دن کا اہتمام کرنا نہیں چاہتے۔ سدرامیا نے کہاکہ اس بار یوم آزادی اور دسہرہ تقریبات کیلئے میسور میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کرنے حکام کو ہدایت دی جاچکی ہے۔