ممبئی، 17؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا ) ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر رگھو رام راجن نے اپنے ناقدین کو انہیں کے انداز میں جواب دیتے ہوئے انہیں چیلنج کیا کہ وہ ان پر سود کی شرح میں کمی کا قدم اٹھانے میں وقت سے پیچھے رہنے کا الزام لگانے سے پہلے یہ ثابت کریں کہ افراط زر کہاں بہت کم ہوئی ہے۔انہوں نے ایسی تنقید کو محض ڈائیلاگ بازی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا ۔آر بی آئی گورنر راجن نے کہا کہ وہ ایسی ڈائیلاگوں پر توجہ نہیں دیتے کیونکہ ایسی باتوں کا کوئی اقتصادی سر پیرنہیں ہوتا ہے۔راجن کو اکثر حکومت اور اس کی پالیسیوں کے ناقدین کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔اقتصادی ترقی کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ اقتصادی حالات میں بہتری کی رفتار کو لے کر ضرور بہت زیادہ مایوسی ہے،لیکن رفتار میں یہ کمی ملک میں مسلسل دو سال کی خشک سالی،عالمی معیشت کی کمزوری اور بریگزٹ جیسے بیرونی جھٹکوں کی وجہ سے ہے۔راجن کی کچھ حلقوں میں اس بات کے لیے تیکھی تنقید ہوئی ہے کہ انہوں نے سودکی شرح کو غیر ضروری طریقے سے اونچارکھاجس سے نمو کے امکانات پربرااثرپڑا۔گورنر نے اپنے رخ کے حمایت میں افراط زر کی سمت کا ذکر کیا جو مسلسل چوتھے مہینے بڑھتے ہوئے جون میں 5.77فیصد تک پہنچ گئی ہے۔راجن نے گورنر کے عہدے پر دوسری میعاد لینے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پھر سے تعلیم کے میدان میں لوٹنا چاہتے ہیں۔ان کی میعاد 4؍ستمبر کو مکمل ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان باتوں کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی معیشت کا مظاہرہ بہت قابل ستائش ہے۔اچھے مانسون اور بنیاری اصلاحات اور و اقتصادی استحکام سے نمو میں مزید تیز ی آئے گی ۔