ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اروند کیجریوال سمیت کئی ناراض وزرائے اعلیٰ سےملاقات کریں گے وزیر اعظم مودی

اروند کیجریوال سمیت کئی ناراض وزرائے اعلیٰ سےملاقات کریں گے وزیر اعظم مودی

Fri, 15 Jul 2016 20:37:21    S.O. News Service

نئی دہلی، 15؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )وزیر اعظم نریندر مودی کل مختلف ریاستوں سے آ رہے29وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کریں گے ۔ان وزرائے اعلی میں سے سبھی مسلسل مرکزی حکومت پر ریاستی حکومت کے کام کاج میں رخنہ ڈالنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ایسے ہی وزرائے اعلی میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال بھی ہیں جو مسلسل مرکز سے اپنے اختیارات کے لے لڑتے رہے ہیں۔اتنا ہی نہیں دہلی کی اروند کیجریوال حکومت حقوق کی اس لڑائی کو لے کر خود ہی دہلی ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک پہنچ گئی ہے۔ادھر اس میٹنگ میں شامل ہونے اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہریش راوت بھی آ رہے ہیں۔راوت کو بھی حال ہی سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد وزیر اعلی کی کرسی ملی تھی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا تھا کہ اس ریاست میں مرکز نے غیر آئینی طور پر صدر راج نافذ کردیا تھا۔ذرائع نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس میٹنگ میں ریاستی حکومت کو مضبوطی فراہم کرنے کے اپنے ارادوں سے وزرائے اعلی کو آگاہ کرائیں گے۔یہ بات مودی اکثر عوامی اسٹیج سے کہتے بھی رہتے ہیں۔جب دہلی میں سبھی وزرائے اعلی کا اجلاس چل رہا ہوگا تبھی اروناچل پردیش میں نبام تکی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کر رہے ہوں گے۔تکی کو بھی ریاست میں سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ کے بعد دوبارہ وزیر اعلی بنایا ہے۔اس معاملے میں بدھ کو دئیے اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے کہا کہ اتراکھنڈ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی مرکز نے غلط طریقے سے صدر راج نافذ کیا تھا۔تکی کے لیے اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنا کافی مشکل لگ رہا ہے کیونکہ کانگریس پارٹی کے کئی اراکین اسمبلی نے پارٹی چھوڑ کر اپنی ایک الگ پارٹی بنا لی ہے۔
اگر اروناچل پردیش میں تکی کی حکومت برقرار رہتی ہے تو سبھی اپوزیشن پارٹیاں مرکز پر حملہ آور ہو جائیں گی ۔ایسے میں ریاستوں میں اپوزیشن پارٹیوں کی حکومت کی قیادت کر رہے وزرائے اعلی کو یہ موقع بھی مل گیا ہے کہ وہ یہ بتا سکیں کہ مرکز ان کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کر رہا ہے۔کہا جا رہا ہے کہ اگر اروناچل پردیش میں تکی کی حکومت برقرار رہتی ہے تو پورا اپوزیشن مرکز پر حملہ آور ہو جائے گا وہیں ایسا نہ ہونے پر مرکزکو حملہ کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔اس لیے مانا جا رہا ہے کہ کل کا اجلاس ہنگامہ خیز ہو سکتا ہے۔گزشتہ 10؍سالوں میں یہ میٹنگ پہلی بار ہونے جا رہی ہے۔یہ میٹنگ ہندوستان کی انٹر اسٹیٹ کونسل کی طرف سے منعقد کی جا رہی ہے۔اس کونسل کو 1990میں بنایا گیا تھا اور اس اجلاس میں وزیر اعظم کے علاوہ 6 کابینہ وزیر، سبھی وزرائے اعلی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سربراہ سبھی منصوبوں کے نفاذ اور پالیسی کے تعین پر بات چیت کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلی کو کہا گیا ہے کہ اگر اپوزیشن پارٹیاں اس اجلاس کو حالیہ واقعات کی بنیاد پر بھٹکانے کی کوشش کریں تو وہ مل کر اجلاس کی اہمیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔خبروں میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم مودی چاہتے ہیں کہ اس اجلاس میں آدھار منصوبے کی کامیابی، اور اس کے ذریعے لوگوں تک سرکاری سبسڈی کا فائدہ پہنچانے کی کامیابی کو اہمیت دی جائے۔ذرائع بتا رہے ہیں کہ وزیر اعظم اس اجلاس کے ذریعے جی ایس ٹی پر بھی وزرائے اعلی کی رائے لینا چاہتے ہیں۔حکومت اس بار مانسون اجلاس میں اس بل کو پاس کرانا چاہتی ہے۔اس بل کو لوک سبھا سے منظور ی مل چکی ہے جہاں پر بی جے پی اور اتحادی پارٹیاں اکثریت میں ہیں لیکن راجیہ سبھا میں بل کومنظوری نہیں مل پارہی ہے جہاں پر اپوزیشن پارٹی اکثریت میں ہیں۔


Share: