ایٹہ نگر، 16جولائی؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)اروناچل پردیش میں ہفتہ کو فلور ٹیسٹ کے پہلے وزیر اعلی نبام تکی نے گورنر کو استعفی دے دیا ہے۔سپریم کورٹ کے حکم کے بعد تکی کو آج دوپہر 1بجے اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنا تھا۔ان کے استعفی کے بعد اب کانگریس کے پیما کھاڈو اروناچل پردیش کے نئے وزیر اعلی بن سکتے ہیں۔کھاڈو کو 44ممبران اسمبلی نے حمایت دی ہے۔استعفی دیتے ہوئے نبام تکی نے کہا کہ اب ریاست کو نوجوان قیادت کی ضرورت ہے،اس سے پہلے انہوں نے صبح 9بجے پارٹی اراکین کی میٹنگ بلائی،جس میں کانگریس قانون ساز پارٹی کا نیا لیڈر منتخب کیا گیا۔اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کو لے کر پورے شہر میں دفعہ 144نافذ کر دی گئی تھی۔کانگریس کے 20باغی ممبران اسمبلی نے اشارہ دیا ہے کہ پارٹی اگر قیادت بدلتی ہے، تو وہ پارٹی میں واپس لوٹ سکتے ہیں۔استعفی دینے کے بعد نبام تکی پارٹی اراکین کے نئے لیڈر پیما کھاڈو کے ساتھ عارضی گورنر تتھاگت رائے سے ملنے راج بھون پہنچے۔گورنر کے ساتھ دونوں کی کچھ دیر تک بات چیت ہوئی،اس کے بعد گورنر تتھاگت رائے نے نبام تکی کا استعفی منظور کر لیا۔بی جے پی ذرائع کی مانیں، فلور ٹیسٹ کے دوران اسپیکر ریبا کے خلاف عدم اعتمادکی تجویز لائی جا سکتی ہے۔کورٹ کے فیصلے کے مطابق اگر بی جے پی اور پل ریبیا کے خلاف عدم اعتمادکی تجویز لاتی ہے، تو انہیں خود کا بھی ووٹ ثابت کرنا ہوگا۔اس سے پہلے نبام تکی نے گورنر سے اکثریت ثابت کرنے کے لئے 10دن کا وقت مانگا تھا لیکن جمعہ کو گورنر تتھاگت رائے نے تکی کو ہفتہ کو ہی اکثریت ثابت کرنے کے لئے کہا ہے۔وہیں اب اگلے قدم کے لئے کانگریس قانونی مشورہ بھی لے رہی ہے۔