ممبئی /رالیگن سدھی12اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سماجی کارکن انا ہزارے نے ملک میں بدعنوانی کے مسئلے پر ایک بار پھرتحریک کی تیاری کی ہے۔اس بار کی تحریک مودی حکومت کے خلاف ہو جائے گی۔لوک پال بل بننے کے بعد بھی اس پر عمل نہیں ہونے اور ملک میں مسلسل بڑھتی ہوئی بدعنوانی سے اناہزارے ناراض ہیں۔رالیگن سدھی میں ملک بھر سے پہنچے تقریباََ500کارکنوں نے تحریک کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی۔انہیں ریاستوں میں پہنچ کر تیاری کرنے کو کہا گیا ہے۔تحریک کا آغاز اس بار ممبئی سے ہوگاجسے بعد میں نئی دہلی کے رام لیلامیدان تک لے جایا جائے گا۔تاہم تحریک کی تاریخ کا اعلان پوری تیاری ہونے کے بعدکیاجائے گا۔انا نے اس تحریک کو”آزادی کی دوسری لڑائی“نام دیا ہے۔انا اس بار بدعنوانی کے معاملے میں حکومت سے آر پار کی لڑائی لڑنا چاہتے ہیں۔بقول انا یہ تحریک تبھی ختم ہوگی جب تک کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ملک بھر میں پھیلے انا ہزارے کے کارکن مسلسل ان سے(اناسے)دوبارہ تحریک کیلئے درخواست کر رہے ہیں۔اسی معاملے پر حکمت عملی بنانے کے لئے گزشتہ ہفتے ملک بھر سے سینکڑوں کارکن رالیگن سدھی پہنچے تھے۔تحریک کا مسئلہ بنیادی طور پر بدعنوانی پر مرکوزہوگا۔اس کے ساتھ کالے دھن کا مسئلہ بھی اٹھایا جائے گا۔بی جے پی کے خلاف تحریک کے سوال پر انا کا کہنا ہے کہ وہ کسی پارٹی کے حق یا مخالفت میں نہیں ہیں۔وہ صرف کرپٹ نظام کی مخالفت کر رہے ہیں۔پہلے کانگریس نے اس کے لیے سخت قدم نہیں اٹھائے، اس لئے ہم نے احتجاج کیا اور اب موجودہ حکومت بھی یہی کر رہی ہے۔انا کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت نے انتخابات سے قبل ملک کے عوام کوحکومت بننے کے 100دن کے اندر کالا دھن واپس لانے کا یقین دلایا تھا۔ہر شہری کے بینک اکاؤنٹ میں 15لاکھ روپے جمع کرانے کی بات بھی کہی تھی۔حکومت بننے کے بعد اب وزیر اعظم نریندر مودی کی نیت صاف نہیں لگتی۔اب سوادوسال گزر چکے ہیں، لیکن مودی اپنے وعدوں پر کھرے نہیں اترے۔انا کا کہنا ہے کہ کانگریس حکومت نہیں چاہتی تھی کہ جن لوک پال آئے۔اس لئے ان کے خلاف تحریک کی گئی۔اس کے بعد لوک پال بل پاس ہوا، لیکن حکومت تبدیل کرنے کے بعد بھی اس پر عمل نہیں ہوا۔حکمران ہونے کے پہلے بی جے پی بدعنوانی پر بڑی بڑی باتیں کر رہی تھی، حکومت بننے کے سوادوسال کے بعد بھی اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔بی جے پی حکومت بھی سخت لوک پال کے معاملے پر پیچھے ہٹ رہی ہے۔فی الحال جو لوک پال بل پاس ہوا، اس پر عمل کرنے کی نیت بھی حکومت کی نہیں نظر آرہی ہے۔یو پی اے حکومت کے بعداین ڈی اے حکومت میں صرف چہرے اور وزراء کے نام بدلے ہیں، طریقہ کار نہیں۔کچھ دن پہلے کئی ریاستوں سے میرے پاس کارکن آئے تھے، ان سے مل کر نیا تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس کیلئے تیاری کرنے کو کہا ہے۔تیاری مکمل ہونے کے بعد اس کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔