کانگریس نے سیاست سے متاثراورغیرآئینی فیصلہ بتایا،سپریم کورٹ بھی گورنرکی کرچکاہے سرزنش
نئی دہلی ، 15؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )اروناچل پردیش میں سیاسی اٹھا پٹھک کے درمیان گورنر نے اکثریت ثابت کرنے کے لئے اور وقت دینے سے انکار کرتے ہوئے نبام تکی کو 16جولائی کو ہی اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کو کہا ہے۔واضح ہوکہ سپریم کورٹ اس سے قبل گورنرکے فیصلہ کوغیرآئینی بتاکرسخت سرزنش کرچکاہے ۔اس سے پہلے نبام تکی گورنر سے مل کر اکثریت ثابت کرنے کیلئے10دن کامزیدوقت مانگا تھا۔وہیں سی ایم نبام تکی نے جمعہ کو 12بجے کابینہ کی میٹنگ بلائی اور موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کیا۔کیونکہ گورنر نے نبام تکی کو ہفتہ کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کو کہا تھا۔ذرائع کی مانیں تو کانگریس گورنر کے ہفتہ کواکثریت ثابت کرنے کے فیصلے سے ناخوش ہے۔کانگریس نے گورنر کے اس فیصلے کو سیاست سے حوصلہ افزاء بتایا۔کانگریس نے گورنر کے کردارکو لے کر بھی سوال اٹھائے ہیں۔کانگریس کا کہنا ہے کہ گورنر تبھی ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لئے کہہ سکتا ہے جب کوئی تجویز لائی گئی ہو۔لیکن اروناچل اسمبلی میں ایسی کوئی تجویز نہیں پیش کی گئی ہے۔کانگریس کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرکاریا کمیشن اور دیگر کمیشنوں نے بھی یہ کہا ہے کہ کسی بھی حکومت کو اکثریت ثابت کرنے کیلئے 30دن کا وقت دیا جانا چاہئے۔