بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 3rd September 2018, 9:59 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:3/ستمبر(ایس اؤ نیوز) اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری کے ساتھ  ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں پر عملی اقدامات کرنے شروع کردئیے ہیں۔ اس سلسلےمیں خاص کر ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جدھر چاہے ادھر پارکنگ کئے جانے پر سواریوں کو لاک کرکے جرمانہ عائد کیا جارہا ہے۔ پولس ذرائع نے بتایا کہ غلط پارکنگ کرنے پر  پہلی بار سواری کو لاک کرنے  پر سو روپیہ جرمانہ عائد کیا جائے گا، دوسری بار پکڑے جانے کی صورت میں تین سو روپیہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بنگلور اور ممبئی جیسے بڑے بڑے شہروں میں غلط پارکنگ کرنے کی صورت میں ٹریفک پولس کی گاڑی فوری جائے وقوع پر پہنچ کر پارک کی ہوگئی سواریوں کو ہی اُٹھاکر لے جاتی ہے ۔ اسکوٹر یا  بائک ہوتو ان سواریوں کو  پولس کی گاڑی میں ٹھونس دیا جاتا ہے، جس سے ان سواریوں کو بھی   شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے، مگر بھٹکل میں بائک ہو یا کار، غلط پارکنگ کرنے کی صورت میں وہیں پر گاڑیوں کو لاک کردیا جاتا ہے۔ پورے ضلع شمالی کینرا میں  بھٹکل ایسا شہر ہے جہاں یہ  لاک سسٹم شروع  کیا گیا ہے۔

تعلقہ کے مین روڈ کے کناروں پر سواریوں کی پارکنگ کو لے کر 2015 میں اُس وقت کے ڈی وائی ایس پی ائیپا کی رہنمائی میں اصول وضوابط نافذ کئے  تھے، جس کے تحت ہفتہ کے تین دن روڈ کے ایک کنارے پارکنگ کرنی ہوتی ہے اور ہفتہ کے چار دن  روڈ کے دوسرے کنارے پارکنگ کرنا لازمی ہے۔ 

کیپٹن ائیپّا کے ٹرانسفر کے بعد  آج ضوابط جانے دیجئے اصول کی اطلاع دینے والے بورڈس کا رنگ بھی پھیکا ہوگیا۔جس  کے بعد  شہر کے مین روڈ پر من چاہی پارکنگ شروع ہوگئی ۔حالات اتنے سنگین ہوگئے کہ صبح اور شام کے اوقات میں مین روڈ، ماری کٹہ سے سواری لے کر گزرنا ہی محال ہوگیا۔ منڈلی ،الویکوڑی کی طرف جانے والی بسوں کے ڈرائیوروں کی پریشانی بیان کے باہر ہے۔

مگر اب بھٹکل ڈی وائی ایس پی ویلنٹائن ڈیسوزا نے حالات کودیکھتے ہوئے پورے محکمہ کے ساتھ میدان میں عملی اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔ پہلے مرحلے میں شہر کے مین روڈ کے کناروں پر من چاہی پارک کی گئی سواریوں کو پولس لاک کرکے جرمانہ عائد کررہی ہے۔ پولس کے عملی اقدام کو دیکھتے ہوئے عوام بیدار ہوکر ضوابط کی پابندی کرنے لگے ہیں۔اسی طرح سواروں کےلئے ہیلمٹ لازمی قرار دینے کے بعد ہیلمٹ کی چیکنگ بھی شہر کے مختلف جگہوں پر کی جارہی ہے اور سختی کے ساتھ انہیں ہیلمٹ کی پابندی کرنےکا حکم دیتے ہوئے جرمانہ لگایا جارہاہے۔ اسی طرح  ون وے کے متعلق بھی کارروائی جاری ہے۔ ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی وائی ایس پی ویلنٹائن ڈیسوزا نے  بتایا کہ اس سلسلےمیں 4 ماہ پہلے ہی ہم نے مرچنٹ اسوسی ایشن کے عہدیداران کے ساتھ ایک نشست کا انعقاد کرتے ہوئے پارکنگ، ون وے وغیرہ کے متعلق گفتگو کی تھی اور وہاں کچھ فیصلے لئے گئے تھے جس کو اب نافذ کیاجارہاہے۔ 

ڈی وائی ایس پی نے بتایا کہ بھٹکل  نیشنل ہائی وے پر کم عمر لڑکے  بغیر لائسنس تیز رفتاری کے ساتھ بائک ڈرائیونگ کرنے کی شکایتیں ملی ہیں، اب آئندہ ہائی وے پر بھی چیکنگ تیز کی جائے گی اور اس دوران  کم عمر لڑکے ڈرائیونگ کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں تو اُس  صورت میں اُن کے والدین کے خلاف معاملات درج کئے جائیں گے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کے ہاتھوں میں گاڑیاں نہ دیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کیا5دسمبر سے جیٹ ایئرویزکی منگلورو سے راست دبئی فلائٹ کا سلسلہ منقطع کیاجارہا ہے؟

منگلورو سے راست دبئی کے لئے جانے والے مسافروں کے لئے ایک بری خبر یہ آرہی ہے کہ آئندہ ماہ یعنی 5دسمبرسے جیٹ ایئر ویز کی طرف سے راست دبئی کے لئے مخصوص روزانہ کی فلائٹ کا سلسلہ منقطع کیا جانے والا ہے۔

جوئیڈا میں پالتو ہاتھی پر جنگلی ہاتھیوں کا حملہ؛پالتو ہاتھی ہلاک

ضلع اُترکنڑا کے جوئیڈا میں پنسولی محکمہ جنگلات کی طرف سے پالاہوا ہاتھی جب جنگل میں سیر کے لئے گیا تو وہاں پر جنگلی ہاتھیوں کے ایک غول نے اس پر حملہ کردیا جس کی وجہ سے راجیش نامی ۴۳سالہ ہاتھی سنگین طور پر زخمی ہوگیا۔

منگلورو:آر ایس ایس پرچارک تربیتی کیمپ میں امیت شاہ کی شرکت۔ سرخ دہشت گردی ، رام مندر، سبریملا اور انتخابات پر ہوئی خاص بات چیت

ملک کی مختلف ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی مصروفیت کے باوجود بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے منگلورو میں آر ایس ایس ’ پرچارکوں‘ کے لئے منعقدہ 6 روزہ تربیتی کیمپ کے اختتام سے ایک دن پہلے ’سنگھ نکیتن‘ میں پہنچ نے کے لئے وقت نکالااور تربیتی کیمپ کے شرکاء سے خطاب کیا۔

بھٹکل میں والوو بس کی درخت سے ٹکر؛ ٹہنی گرکر بس کے اندر گھس گئی؛ایک کی موقع پر موت

مینگلور سے مسافروں کو بھر کر بھٹکل بس اسٹائنڈ پر اُتارنے کے بعد والوو بس کو  ڈپو میں لے جانے کے دوران  ساگر روڈ پر  واقع ایک درخت کی ٹہنی سے ٹکراجانے کے نتیجے میں  بس کنڈیکٹر کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت پنچیّا مٹاپتی (35) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

جیل میں بندہیرا گروپ کی ڈائریکٹر نوہیرانے فوٹو شاپ جعلسازی سے عوام کو دیا دھوکہ۔ گلف نیوز کا انکشاف

دبئی سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت انگریزی اخبار گلف نیوز نے ہیرا گولڈ کی ڈائرکٹر نوہیرا شیخ کی جعلسازی کا بھانڈہ پھوڑتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ    کس طرح اس نے فوٹو شاپ کا استعمال کرتے ہوئے بڑے بڑے ایوارڈ حاصل کرنے اور مشہور ومعروف شخصیات کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ...

کہ اکبر نام لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!ایم ودود ساجد

میری ایم جے اکبر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔میں جس وقت ویوز ٹائمز کا چیف ایڈیٹر تھا تو ان کے روزنامہ Asian Age کا دفتر جنوبی دہلی میں‘ہمارے دفتر کے قریب تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ 2003/04 میں شاہی مہمان کے طورپرحج بیت اللہ سے واپس آئے تو انہوں نے مکہ کانفرنس کے تعلق سے ایک طویل مضمون تحریر ...

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...