اسمبلی انتخاب کے بعدبھٹکل حلقے میں کانگریس اور بی جے پی کے اندر بدلتا ہوا سیاسی ماحول؛ کیا برسات کا موسم ختم ہونے کے بعدپارٹیاں بدلنے کا موسم شروع ہو جائے گا ؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 2nd June 2018, 5:31 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 2؍جون (ایس او نیوز) حالیہ اسمبلی انتخاب میں کانگریسی امیدوار منکال وئیدیا کی شکست کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی کے اندر ہی سیاسی ماحول ایک آتش فشاں میں بدلتا جارہا ہے ۔ انتخاب سے پہلے تک بظاہرکانگریس پارٹی کا جھنڈا اٹھائے پھرنے اور پیٹھ پیچھے بی جے پی کی حمایت کرنے والے بعض لیڈروں کو اب الیکشن جیتنے والے بی جے پی رکن اسمبلی سنیل نائک کے پیچھے کھلے عام جئے جئے کار کے نعرے لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

بھٹکل بلاک کانگریس صدر وٹھل نائک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔اسی دوران کانگریسی امیدوار منکال وئیدیا کی شکست کے پیچھے سینئر کانگریسی لیڈر آر وی دیش پانڈے کا ہاتھ ہونے کی خبریں بھی عام ہورہی ہیں۔مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے ساتھ ان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی باتیں بھی بھٹکل اور ہوناور کے علاقے میں سنائی دے رہی ہیں۔اسی پس منظر میں کانگریسی حلقے میں یہ سرگوشیاں بھی ہورہی ہیں کہ آئندہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں دیشپانڈے کو آگے بڑھنے سے روکنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ ہائی کمان پر دباؤ بناکر ٹکٹ لائیں گے تب بھی کسی بھی قیمت پر ان کا ساتھ نہیں دیا جائے گا۔ کانگریس کے اندر ایک گروہ ایسابھی ہے جو دیشپانڈے اور اننت کمار ہیگڈے دونوں کو ضلع شمالی کینرا کی مرکزی سیاست سے ہٹاکر ان کی جگہ پسماندہ طبقے کے امیدوار بی کے ہری پرساد کو آگے بڑھانے کے منصوبے بنارہا ہے۔اسی بات کو سامنے رکھ کر بھٹکل اور ہوناور کے کانگریسی لیڈراپنی اپنی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔چونکہ کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کے بطور ڈی کے شیو کمار کے علاوہ ہری پرساد کا نام بھی سامنے آرہا ہے اس لئے اگلا قدم ریاستی کانگریس صدر کے انتخاب کے بعد ہی اٹھایا جائے گا۔اور اسی کے بعد تصویر صاف ہوجائے گی۔

ادھر انتخاب جیتنے کے بعد بھی بی جے پی کے اندر سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں لگ رہا ہے۔ ماضی میں جب شیوانند نائک رکن اسمبلی تھے تو اننت کمار ہیگڈے گروپ سے وابستہ گووند نائک اور ان کے ساتھی شیوانند نائک مخالف گروپ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اس کے باوجود اننت کمارہیگڈے نے اس گروپ کو کنارے لگاکرچند مہینے قبل پارٹی میں داخل ہونے والے سنیل نائک کو جس طرح آگے بڑھایا اور الیکشن میں جیت حاصل کرکے وہ رکن اسمبلی کے طور پر ابھر گئے ، اس سے گووند نائک گروپ خوش نظر نہیں آتا۔اس کے علاوہ ٹکٹ کی آس لگائے بیٹھے ہوئے جے ڈی نائک اور شیوانند نائک گروپ کے کارکنان بھی دل برداشتہ ہوگئے ہیں اور یہ لوگ سنیل نائک گروپ کے ساتھ گھلنے ملنے سے کترا رہے ہیں۔کیا آئندہ پارلیمانی انتخاب تک اس سے بی جے پی کے لئے کوئی پیچیدگی پیدا ہوگی یا یہ گرم ماحول دھیرے دھیرے سرد ہوجائے گا؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ویسے سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے سوچ رہے ہیں کہ جس طرح کے حالات کانگریس او ربی جے پی کے اندر اس وقت پیدا ہوگئے ہیں، ہوسکتا ہے کہ برسات کا موسم ختم ہوتے ہوتے پارٹیاں بدلنے کا موسم شائد شروع ہو جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

حلال آمدنی کے نام پر سرمایہ کاروں کو ٹھگنے کا الزام۔ہیرا گولڈ کی چیف نوہیرا شیخ حیدرآباد میں گرفتار۔ سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر

کئی برسوں سے ’ہیرا گولڈ‘ کے نام سے کمپنی چلانے اور حلال آمدنی کا وعدہ کرکے ہزاروں افراد سے سرمایہ کاری کروانے والی عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو حیدرآباد پولیس نے سرمایہ کاروں کو ٹھگنے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

کاروار : یکم نومبر کے کنڑا راجیوتسوا پروگرام میں سرکاری افسران اور عملہ کی حاضری لازمی : ضلع ڈی سی

یکم نومبر کو منائےجانے والے ریاستی تہوار ’’کنڑا راجیوتسوا‘‘  ضلعی سطح پر کاروار میں منعقد ہونے والے پروگرام میں کاروار کے تمام سرکاری عملہ لازمی طورپر شریک ہونے کی ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے ہدایات جاری کی ہیں۔

بھٹکل میں کل بدھ کو ہوگا تنطیم میڈیا ورکشاپ کا عظیم الشان اختتامی اجلاس؛ بنگلور اور حیدرآباد سے میڈیا ماہرین کریں گے خطاب

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے پانچ روزہ ورکشاپ کا اختتامی اجلاس کل بدھ 17/اکتوبر کو  منعقد ہوگا جس میں سنئیر جرنلسٹ اور کرناٹکا کے سابق  وزیراعلیٰ سدرامیا کے خصوصی میڈیا مشیر مسٹر دنیش امین مٹّو مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما ہوں گے۔

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...