کولکاتہ، 28 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ کسی کو بھی عوام کے ووٹ کا حق چھیننے نہیں دیں گی اور الزام لگایا کہ بنگالیوں پر "لسانی دہشت" مسلط کی جارہی ہے۔
کولکاتہ میں طلبہ ونگ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا نے دعویٰ کیا کہ مختلف ریاستوں سے پانچ سو سے زائد ٹیمیں مغربی بنگال میں بھیجی گئی ہیں تاکہ ووٹر لسٹوں سے نام حذف کرنے کے سروے کرائے جائیں۔ انہوں نے عوام کو متنبہ کیا کہ ’’خود جانچ لیں کہ آپ کے نام ووٹر لسٹ میں موجود ہیں یا کاٹ دیے گئے ہیں، اور یہ بھی یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس آدھار کارڈ ہو۔‘‘ انہوں نے دوٹوک کہا، ’’جب تک میں زندہ ہوں کسی کو ووٹ کا حق نہیں چھیننے دوں گی۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن ریاستی سرکاری افسران کو ڈرا دھمکا رہا ہے، حالانکہ اس کا دائرہ کار صرف انتخابی تین ماہ تک محدود ہے، پورے سال نہیں۔ ممتا نے مزید کہا کہ بنگالی زبان کو نظر انداز کر کے عوام کو آزادی کی تحریک میں بنگالیوں کے تاریخی کردار کو بھلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ’’اگر بنگالی زبان نہیں تو کس زبان میں قومی ترانہ اور قومی گیت لکھے گئے ہیں؟ ہم اس لسانی دہشت کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت خواتین کے لیے ’’لکشمی بھنڈار‘‘ جیسی فلاحی اسکیمیں لا رہی ہے جبکہ مرکز میں بدعنوانی اور اقربا پروری کے نام پر ملک کو لوٹا جارہا ہے۔ ممتا نے کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ) پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ بھی ان کے مخالفین سے ہاتھ ملا رہی ہے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ ریاست میں ووٹروں کے حقوق چھیننے کی سازش ہورہی ہے تاکہ 2026 کے اسمبلی انتخابات پر اثر ڈالا جا سکے، لیکن بنگال کے عوام سخت جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’پہلے عوام حکومت چنتے تھے، اب ووٹروں کو ہی غیر جمہوری طریقے سے چنا جا رہا ہے۔ اگر کسی ایک بھی جائز ووٹر کا نام کاٹا گیا تو ہم دہلی کی سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مخالفین سب ایک ہوچکے ہیں مگر دس کروڑ بنگالی عوام ترنمول کانگریس کے ساتھ ہیں۔ ’’اگر کسی میں ہمت ہے تو 2026 کے انتخابات میں پچاس نشستوں سے آگے بڑھ کر دکھائے،‘‘ ابھیشیک نے للکارا۔