ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کپل سبل کا الزام: ’’جگدیپ دھنکھر کہاں ہیں؟‘‘ — امیت شاہ سے وضاحت طلب، ورنہ سپریم کورٹ میں حبس بے جا کی عرضی دائر کرنے کا انتباہ

کپل سبل کا الزام: ’’جگدیپ دھنکھر کہاں ہیں؟‘‘ — امیت شاہ سے وضاحت طلب، ورنہ سپریم کورٹ میں حبس بے جا کی عرضی دائر کرنے کا انتباہ

Sun, 10 Aug 2025 10:59:49    S O News

نئی دہلی، 10/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) راجیہ سبھا کے سینئر رکن اور معروف وکیل کپل سبل نے میڈیا سے گفتگو میں ایک غیرمعمولی دعویٰ کیاکہ ملک کےسابق نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ  دھنکھر   کئی دنوں سے لاپتہ ہیں۔ان کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں کیوں کہ حکومت کوئی جواب نہیں دے رہی ہے۔سبل نے براہ راست وزیر داخلہ امیت شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان میں آ کر اس معاملے کی وضاحت کریں یا عوامی طور پر ہی بتائیں کہ دھنکھر  صاحب کہاں ہیں ؟ کیا انہیں نظر بند رکھا گیا ہے؟ یا پھر انہیں میڈیا سے گفتگو کیوں نہیں کرنے دی جارہی ہے؟سبل کے مطابق وزارتِ داخلہ کو ملک کے سابق نائب صدر کی موجودہ صورتحال اور سلامتی سے متعلق مکمل معلومات ضرور ہوں گی جسے  وزارت کو اپوزیشن سے شیئر کرنا چاہئے۔ سبل نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت نے صورتحال واضح نہ کی یا وزارت داخلہ نے کوئی جواب نہیں دیا تو اپوزیشن کو مجبوراً سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاکر حبس  بے جا کی پٹیشن داخل کرنی ہو گی  تاکہ دھنکر کو عدالت میں پیش کرنے پر مودی حکومت کو مجبور کیا جاسکےیا کم از کم ان کی خیریت کے بارے میں حتمی معلومات فراہم ہو جائے۔یہ ایک غیرمعمولی قانونی قدم ہے جو عموماً لاپتہ افراد یا غیرقانونی حراست کے معاملات میں اٹھایا جاتا ہے لیکن کسی سابق نائب صدر کیلئے اس کا ذکر غیرمعمولی تشویش کی علامت ہے۔

سبل نے بتایا کہ انہوں نے چند روز قبل جگدیپ  دھنکھر   کو فون کیا تھا، جس کا جواب ان کے ذاتی عملے نے دیا۔ جواب ملا کہ وہ آرام کر رہے ہیں۔ اس کے بعد کئی کوششوں کے باوجود کوئی رابطہ ممکن نہیں ہوا۔ یہی تجربہ کئی دیگر اپوزیشن لیڈروں کو بھی ہوا۔ ان سبھی نے کہا کہ  یا تو کالز  ریسیو نہیں ہو رہی ہیں یا گول مول جواب دیا جارہا  ہے۔ اسی کے بعد سے یہ شبہ جڑ پکڑ رہا ہے کہ کہیں نہ کہیں دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ یاد رہے کہ 21؍ جولائی کو دھنکھر   نے صحت کی وجوہات کی بناء پر  نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔جس کےاگلے ہی   ان کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا اور راجیہ سبھا میں اس کا اعلان بھی کردیا گیا۔ یہ اعلان اس وقت حیرت انگیز محسوس ہوا تھا جب  انہوں نے صرف چند ہفتے قبل  ایک تقریب میں کہا تھا کہ وہ  اگست ۲۰۲۷ء میں اپنی مدت کار مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہوجائیں گے ۔  

کپل سبل نے یہ بھی کہا کہ   دھنکھر   حکومت کے حامی سمجھے جاتے تھے۔ اگر واقعی استعفیٰ کے پیچھے کوئی دباؤ یا اختلاف ہے تو یہ انتہائی اہم  ہے۔کپل سبل  نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کو ہی  دھنکھر  کی حفاظت کرنی پڑے گی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ محض ذاتی یا طبی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ اس میں ممکنہ طور پر کچھ پوشیدہ خطرات بھی شامل ہیں۔  اگر امیت شاہ یا حکومت کی جانب سے واضح بیان نہیں دیا جاتا ہے تو یہ معاملہ عدالت تک جا سکتا ہے جس سے آئینی اور سیاسی دونوں محاذوں پر زبردست  ہلچل مچنے کا امکان ہے۔ 


Share: