بھارت۔ تائیوان ایس ایم ای ترقیاتی فورم تائیپی میں شروع 

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 15th November 2018, 11:15 PM | ملکی خبریں | عالمی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

تائیپی:15/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایم ایس ایم ای کے سکریٹری ڈاکٹر ارون کمار پانڈا 13 سے 17 نومبر 2018 تک چلنے والے بھارت 150 تائیوان ایس ایم ای ترقیاتی فورم کے اجلاس میں بھارتی وفد کی قیادت کررہے ہیں۔ فورم میں کل اپنے افتتاحی کلمات میں ڈاکٹر پانڈا نے کہا کہ بھارت میں ایم ایس ایم ای کی پوزیشن کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال ملک میں 6 کروڑ 30 لاکھ ایم ایس ایم ای اکائیاں ہیں ، جو 11.10 کروڑ لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہیں اور 8000 سے زیادہ مصنوعات تیار کرتی ہیں ، جن میں روایتی اشیاء سے لے کر جدید ٹیکنالوجی والی نازک اشیاء4 میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے بعد ایم ایس ایم ای دوسرا سب سے بڑا روزگار دینے والا سیکٹر ہے۔ اسٹارٹ اپ انڈیا کے تحت حکومت ہند کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صنعت کاری کا کلچر فروغ دینے کی خاطر اسٹارٹ اپ انڈیا اور اسٹینڈ اپ انڈیا جیسے پروگرام شروع کئے گئے ہیں اور اس کے نتیجے میں بھارت میں 26000 سے زیادہ اسٹارٹ اپ کے ساتھ بہتر ماحول پیدا ہوا ہے۔علاقائی اور عالمی ویلیو چینج کے ساتھ بھارت کے ایم ایس ایم ای کو مربوط کرنے کے بارے میں بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اور تائیوان کے درمیان ایم ایس ایم ای کے سیکٹر میں تعاون کے لئے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ڈاکٹر پانڈا نے کہا کہ بھارت ، اپنی ایس ایم ای کے ساتھ تائیوان کی کمپنیوں کے ذریعے ٹیکنالوجی کے منتقلی اور ایف ڈی آئی جیسی سرمایہ کاری کاخیر مقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ، آٹو کل پرزے ، ٹیکسٹائل ، آٹو موبائل ، بانس کی صنعت جیسے شعبوں میں بھارت کو خاص دلچسپی ہے جن میں تائیوان کو مہارت حاصل ہے۔بھارت کی جنرل انجینئرنگ ، آٹو کل پرزے ، الیکٹرانک اور پلاسٹک کے شعبے کی تقریبا 20 صنعتیں اس فورم میں شرکت کررہی ہے ، جن کا مقصد اپنے فیلڈ کی تائیوان کی کمپنیوں کے ساتھ رابطے قائم کرنا ہے۔ ایم ایس ایم ای کی وزارت بھارتی ایم ایس ایم ای کے لئے ایک بین الاقوامی تعاون اسکیم چلارہی ہے جس کا مقصد ایم ایس ایم ای میں ٹیکنالوجی کو شامل کرنا ، اسے جدید بنانا اور برآمدات کو فروغ دینا ہے۔تائیوان میں ایک مضبوط صنعتی بنیاد ہے ، جس میں بہت چھوٹی ، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای ) سیکٹر کی کافی مضبوط بنیاد ہے ، خاص طور پر سیمی کنڈکٹر ، پیٹرو کیمیکل ، آٹو موبائل ، آٹو کل پرزے م، وائرلیس مواصلات کا سازوسامان ، اسٹیل ، پلاسٹک ، ٹیکسٹائل اور ہلکی انجینئرنگ مشینری کے شعبے کافی ترقی یافتہ ہیں۔ البتہ بھارت کے ایم ایس ایم ای سیکٹر میں آٹو کل پرزے ، ادویہ سازی ، آئی ٹی ، بائیو ٹیکنالوجی اور خوراک کی ڈبہ بندی جیسے شعبوں میں مقابلہ آرائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔بھارت سے برآمد ہونے والی اہم اشیاء میں ناپتھا ، معدنیات ، ریفائنڈ کاپرکیتھوڈ ، زنک ، المونیم اور خام لوہا شامل ہیں۔ جبکہ تائیوان سے درآمد ہونے والی اہم اشیاء میں پولی وینائل کلورائڈ ، اسٹیل کی چادریں ، الیکٹرانک کے سرکٹ ، مشینوں کے کل پرزے ، شمسی سیل ، ڈیجیٹل کیمرہ اور صوتی منتقلی کی مشینیں شامل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ریزرویشن سے متعلق آر ایس ایس اور بی جے پی کے ارادے ٹھیک نہیں: تیجسوی یادو

  بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے ریزرویشن کے معاملے پر راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) کے چیف موہن بھاگوت کے حالیہ بیان پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ ریزرویشن کو لے کر آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔

ملائشیا:ذاکر نائک نے متنازع بیان پر معافی مانگ لی

ملائشیا میں، متنازع اسلامی مبلغ ذاکر نائک پرعوامی طور پرتقریر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پولیس کے محکمہ مواصلات کے چیف اور سینئر اسسٹنٹ کمانڈر، داتوک اسماوتی احمد نے کہا، ہاں“ تمام پولیس دستوں کو ایسے احکامات دیئے گئے ہیں اور قومی سلامتی کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ...

کاروارمیں ریڈ الرٹ کے باوجود کوسٹل سیکیوریٹی پولیس کی انٹر سیپٹر کشتیاں نہیں اتریں سمندر میں!

ابھی دو دن پہلے ملک کی خفیہ ایجنسی نے سمندری راستے سے دہشت گردانہ حملہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا جس کے بعد پوری ریاست کرناٹکا میں اور بالخصوص ساحلی کرناٹکا میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

منگلورو:ڈاکٹرمریم انجم بن گئیں خواتین سے متعلقہ کینسرکے علاج میں ایم سی ایچ ڈگری پانے والی جنوبی کینرا کی پہلی ماہر ڈاکٹر 

ڈاکٹر مریم انجم نے خواتین سے متعلقہ کینسر کے شعبے میں خصوصی مہارت والی ایم سی ایچ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ جس کے ساتھ انہیں جنوبی کینرا میں اس طرح کی مہارت پانے والی پہلی ڈاکٹر ہونے کا اعزاز ملا ہے۔