ضلع شمالی کینرا میں سست رفتاری سے ہورہی ہے نیشنل ہائی وے کی توسیع لیکن ٹول وصولی جاری

Source: S.O. News Service | Published on 12th November 2020, 8:50 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل12؍نومبر(ایس او نیوز)گزشتہ 7 سال سےنیشنل ہائی وے ۶۶کو فورلین میں تبدیل کرنے کا جو منصوبہ چل رہا ہےوہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ اب ضلع شمالی کینرا میں جو کام چل رہا ہے   تو اس کی رفتار  کچھوے جیسی ہوگئی ہے۔حالانکہ اس منصوبے کو 5سال کی مدت میں مکمل ہوجانا چاہیے تھا، لیکن سست رفتاری کو اگر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ مزید دو سال تک یہ کام یونہی چلتا رہے گا۔

البتہ کام چاہے جس رفتار سے چل رہا ہو، لیکن سرکاری افسران کی کوتاہی اور ٹھیکیدار کمپنی کی چالاکی سے   ضلع شمالی کینرا کے عوام کو بے وقوف بناکر اس منصوبےکی تکمیل سے پہلے ہی ٹول فیس وصول کرنے کاکام بڑی کامیابی سے انجام دیا جارہا ہے۔

عوام کو یاد ہوگا کہ کمٹہ میں آر جی نائک کی قیادت میں ٹول وصولی کے خلاف کئی مرتبہ احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے، مگر نہ اس کا کوئی اثر ہوا اور نہ ہی اب کسی کی طرف سے دوبارہ اس ناانصافی اور زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی جارہی ہے۔ اسی طرح شیرور ٹول ناکہ پر بھٹکل کی سواریوں سے بھی ٹول وصول کیا جارہا ہے، مگر کوئی مخالفت نہیں ہورہی ہے۔ گویامخالفت کا جوش دکھانے والے ٹھنڈا جوس پی کر خاموش بیٹھ گئے ہیں۔

اگر ہم فورلین منصوبے کی رفتار کا جائزہ لیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ضلع  جنوبی کینرا اور اڈپی میں کافی تیزی کے ساتھ تعمیری کام انجام دیا گیا ، لیکن   ضلع شمالی کینرا میں داخل ہوتے ہی   پتہ نہیں کیوں یہ کام سست رفتاری کا شکار ہوگیا ہے۔

ہائی وے کو فور لین میں تبدیل کرنے کا یہ منصوبہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے زمانے میں بنایا گیاتھا اور اسے بی جے پی کا  ایک خواب بتایا گیا تھا ۔  اِس وقت ہمارے ضلع میں بی جے پی کے ہی اراکین اسمبلی، رکن پارلیمنٹ اور  انچارج وزیر موجود ہیں۔لیکن   آئی آر بی کمپنی کی طرف سے منصوبےکی تکمیل کے بغیر ہی ضلع  شمالی کینرا اور خاص کر کے کمٹہ   شیرور اوراس کے اطراف کے عوام سے  غیر اصولی طور پر ٹول وصول کیا جا رہا ہے ۔ اور بی جے پی والے بھی منھ  بند کر کے خاموش بیٹھے ہیں  جس پر عوام تعجب کا اظہار کررہے ہیں

اس وقت یہا ں چل رہے  توسیعی کام پر نظر ڈالیں تو  مختلف مقامات پر سڑک کنارے آئی آر بی کمپنی کی گاڑیاں  پارک کی ہوئی نظر آتی ہیں۔ حال یہ ہے کہ  منکی سے ہندیگون تک ۸کلو میٹر تک کے فاصلے پر سڑک کی توسیع کے لئے زمین کی حصولی کا ابتدائی کام بھی  شروع   نہیں ہوا ہے ۔بعض ذرائع سے ملی خبروں کے مطابق اس رکاوٹ کے پیچھے شہر کے ایک بڑے  سیا ستداں کا ہاتھ ہے۔

ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمارنے اس تعلق سے میڈیا کو  بتایا  کہ جب تحویل اراضی  کی ذمہ داری نبھانے والے آفیسرکا قیام  کنداپور میں ہوا کرتاتھاتو اس وقت  کنداپورسے شیروراور کاروار کے سرحدی علاقے سے گوا تک مختلف مقامات پر تحویل اراضی اور تعمیری کام  بڑی تیز رفتاری سے مکمل کردیا گیا  ۔  اس طرح اس نے بڑی حد تک کام مکمل ہوجانےکی پروگریس رپورٹ متعلقہ محکمہ جات کو پہنچائی  تھی۔ اس حساب سے جنوری کے مہینے میں تمام کام مکمل ہوجانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔اب اس آفیسر کے تعلق سے تحقیقات کی ہدایت دی گئی ہے۔

حالانکہ  یہاں کے ضلع ڈپٹی کمشنرڈاکٹر ہریش کمار بڑے ہی فرض شناس آفیسر   کے طور پر  عوام میں مقبول ہیں،اور پڑوسی ضلع سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس لئے  عوام کا خیال ہے کہ  اگر وہ من بنا لیں تو نیشنل ہائی وے کے توسیعی کام کے سلسلے میں نتیجہ خیزاقدامات کر سکتے ہیں، اور اس مسئلے کو جلد حل کر سکتےہیں ۔    

ویسے عوام اس بات کو بھی مانتےہیں اور ستائش کرتے ہیں کہ ضلع کےڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے ڈاکٹر ہریش کمار نے اس سے پہلے بہت سی رکاوٹوں کو دور کیا ہے اور آج جس حدتک بھی فورلین کا کام ہوا  ہے اس میں ڈی سی کا بڑا اہم رول رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

23سے 30جنوری کو ہوگا گرام پنچایت صدر و نائب صدر کے لئے ریزرویشن۔ الیکشن کمیشن کے سافٹ ویئر کے ذریعے اراکین کے سامنے ہوگی قرعہ اندازی

گرام پنچایتوں کے لئے صدر و نائب صدر کے عہدے ریزرو کرنے کا عمل23سے 30جنوری کے درمیان انجام دیاجائے گا۔ اس مرتبہ شفافیت بنائے رکھنے کے لئے  یہ کارروائی الیکشن کمیشن کےسافٹ ویئر پرنومنتخب گرام پنچایت اراکین  کے سامنے ہی قرعہ اندازی (لاٹری) کے ذریعے پوری کی جائے گی۔

بھٹکل میں دو بائک کی ٹکر؛ ایک شدید زخمی

قدوائی روڈ کراس کے قریب نیشنل ہائی وے پر دو بائک کی ٹکر میں ایک بائک کی پچھلی سیٹ پر سوار ایک شخص شدید زخمی ہوگیا جسے بھٹکل سرکاری اسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد کنداپور شفٹ کیا گیا ہے۔

ہوناور تعلقہ کے ولکی میں جامعہ نسواں ،مدرسہ سیدہ فاطمةالزھراءؓ میں شعبہ حفظ کا قیام ،۳۶ طالبات سے آغاز

پڑوسی تعلقہ  ہوناور کے ولکی قصبہ میں گذشتہ روزمدرسہ سیدہ فاطمةالزھراءؓ میں خواتین کے لئے شعبہ حفظ کا قیام  عمل میں آیا اور 36 طالبات کے ساتھ اس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔اس موقع پر مدرسہ کے اندرونی حصہ میں خواتین کی مجلس میں طالبات نے بہترین و خوبصورت انداز میں حمد،نعت و ...

مرڈیشور میں سیاحوں کی آمد ورفت میں اضافہ :افسران کی غفلت سے مین روڈ کا تعمیری کام برسوں سے  تعطل کا شکار

مرڈیشور ایک سیاحتی مرکز کے طور پر بہت مشہور ہے ،ملک و بیرونی ملک اور ریاستوں کے سیاح جب مرڈیشور کے مین روڈ سے گزرتے ہیں تو خستہ سڑک کی بدولت سر شرم سے جھک جاتاہے۔ مرڈیشورکے عوام اس حالت کے لئ ے  افسران کی لاپرواہی  کو ذمہ دار مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ  مشہور سیاحتی مقام کی اہم ...

رام مندر کی بنیادیں کیوں لرز رہی ہیں؟ ... معصوم مرادآبادی

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اجودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر جس ’ عظیم الشان‘رام مندر کی تعمیر ہورہی ہے ، اس کا خمیر ظلم اور ناانصافی سے تیار ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کی تعمیرمیں ایسی دشواریاں حائل ہورہی ہیں ، جن کا تصور بھی مندر تعمیر کرنے والوں نے نہیں کیا ...

گرام پنچایت انتخابات  کے نتائج: ریاست کے مختلف مقامات سےکچھ اہم اور دلچسپ جھلکیاں

ریاست کرناٹک  میں گرام پنچایت انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوچکا ہے جس میں ایک طرف بی جےپی حمایت یافتہ امیدوار وں نے سبقت حاصل کی ہے تو دوسری طرف کچھ اہم اور دلچسپ قسم کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ کچھ حلقوں میں ساس نے بہو کو ہرایا ہے، کچھ میں شوہر کو جیت اور بیوی کو شکست ہوئی ہے تو ...

کیا سی آر زیڈ قانون کا نفاذ نہ ہونے سے اترکنڑا میں سیاحت کی ترقی رُکی ہوئی ہے ؟

اترکنڑا ضلع میں سیاحت کی ترقی کے بے شمار مواقع و وسائل میسر ہیں، لیکن ماہرین کی مانیں تو  ضلع کی سیاحت کی ترقی اس وجہ سے رُکی ہوئی ہے کہ  سی آر زیڈ ترمیمی قانون جاری ہونے کے باوجود اس قانون کو   ابھی تک ضلع میں  نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ ضلع کی ترقی نہ ہونے سے نوجوانوں کی بے روزگاری ...

ہوناور میں پریش میستا کی موت کو تین سال مکمل: کیا یہ معاملہ بھی  بے نتیجہ معاملات کی طرح ہوجائے گا ؟ ابھی تک سچ کا پتہ کیوں نہیں چلا ؟

ہوناور میں  پریش میستا نامی نوجوان مشتبہ طورپر ہلاک ہوکر تین برس بیت چکے ہیں،ہلاکت کو لےکر سی بی آئی کی جانچ  ہونے کے باوجود  ہلاکت معاملے کے  سچ کا پتہ نہیں چلا ہے۔ ضلعی عوام میں چہ میگوئیاں چل رہی ہیں کہ کہیں یہ معاملہ بھی نتیجہ بر آمد نہ ہونے والے معاملات کی طرح  نہ ہوجائے۔