بلقیس بانو کیس۔ انصاف کی جدوجہد کا ایک سنگ میل ......... آز: ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 15th May 2019, 1:00 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

سترہ سال کی ایک لمبی اور طویل عدالتی جدوجہد کے بعد بلقیس بانو کو ہمارے ملک کی عدالت عالیہ سے انصاف حاصل کرنے میں فتح حاصل ہوئی جس فتح کا اعلان کرتے ہوئے عدالت عالیہ (سپریم کورٹ آف انڈیا) نے گجرات سرکار کو حکم دیا کہ وہ بلقیس بانو کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ کے ساتھ ساتھ سرکاری نوکری اور مکان فراہم کرے۔ یہ فیصلہ حق و انصاف کی لڑائی کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

بلقیس بانو گجرات فسادات کی وہ مظلوم لڑکی ہے جس کے ہاتھوں سے اس کی تین سالہ بیٹی کو چھین کر قتل کردیاگیا تھا اور آج تک اس ماں کو یہ نہیں معلوم ہے کہ اس کی معصوم بیٹی کی قبر کہاں ہے۔ اس کے سامنے اس کے خاندان کے چودہ افراد کا قتل عام ہوا، بلقیس بانو جس کی عمر اس وقت ۹۱ سال تھی اور ماں بننے والی تھی لیکن اس مظلوم کو دنگائیوں نے اجتماعی عصمت دری کا شکار بنایا تھا۔

اس اندوہناک حادثہ کا مقدمہ پہلے تو احمدآباد کی عدالت میں شروع ہوا لیکن ابتدائی دور میں ہی یہ اندازہ ہوگیا کہ گجرات میں اس وقت کی گجرات حکومت اور وہاں کی پولیس و انتظامیہ کی دخل اندازی کے ناپاک منصوبے نظام عدلیہ کو آزادانہ و مبنی برانصاف انداز سے اپنی کارروائیاں نہیں انجام دینے دیں گے اور فسادات کے ملزمین کے پے درپے ضمانت پر آزادی ملنے کے بعد آخرکارنیشنل کمیشن برائے حقوق انسانی نے جسٹس آر ایس ورما کی سربراہی میں اس کیس کو بھی سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک کامیاب کوشش کے بعد گجرات سے ممبئی اگست ۴۰۰۲ء میں منتقل کرادیا۔

گجرات میں گواہوں اور ثبوتوں کا تحفظ ایک بڑا چیلنج ثابت ہورہا تھا۔ چار سال ممبئی کی سیشن کورٹ میں مقدمہ کا ٹرائل چلا جس کے بعد ۱۲/ جنوری ۸۰۰۲ء میں اگیارہ لوگوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا کا فیصلہ سنایا گیا۔ سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل داخل ہوئی جس میں ہائی کورٹ نے ۴ مئی ۷۱۰۲ء کو اپنا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے سات لوگوں کو مجرم قرار دیا جس میں پانچ پولیس اور دو ڈاکٹر شامل ہیں جن کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکامی اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا مجرم قرار دیا گیا۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دونوں ڈاکٹر اور چار پولیس جس میں آئی پی ایس افسر آر ایس بھاگورا بھی شامل ہیں، نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی جس کو ۰۱/ جولائی ۷۱۰۲ء میں عدالت عالیہ نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ ان مجرمین کے خلاف پختہ ثبوت موجود ہیں۔

اگر ہم بلقیس بانو کے کیس پر نظر ڈالیں تو ہمیں یقین ہوتا ہے کہ اگرچہ ہمارے ملک میں انصاف حاصل کرنا مشکل ہے تاہم ایک مستقل اور منصوبہ بند قانونی جدوجہد ہمیں انصاف حاصل کرنے سے روک نہیں سکتی ہے۔ یہ ایک لمبی جدوجہد تھی جس سے ہم سب کے لیے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا نیز فرقہ وارانہ فسادات سے زخمی سماج کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے کی رہنمائی ملتی ہے۔

ہمارے ملک کے کرمنل جسٹس سسٹم میں سب سے اہم رول پولیس کا ہوتا ہے، یعنی اگر کوئی بھی جرم واقع ہوتا ہے تو پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ حادثہ سے متعلق ایمانداری سے ایف آئی آر درج کرے، ڈاکٹر کا فرض ہے کہ وہ متأثرین کی میڈیکل رپورٹ پوری دیانتداری کے ساتھ تیار کرے، تاہم بلقیس بانو کے کیس میں پولیس نے ملزمین کی صحیح شناخت ہونے و عصمت دری کے پختہ ثبوت ہونے کے باوجود ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر مجرمین کو بچانے کی ایک ناپاک سازش کے تحت میڈیکل رپورٹ کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی اور ایک ایسے اندوہناک حادثہ کو بگاڑ کر اسے فسادیوں کے ذریعے زخمی کرنے کا معاملہ بناتے ہوئے ایف آئی آر درج کیا گیا جس میں نامزد ملزمین کی جگہ نامعلوم بھیڑ کو ملزم بنایا گیا تھا۔ لیکن انصاف کے لیے انصاف سے لڑی گئی اس طویل قانونی لڑائی نے ان تمام پولیس افسران اور ڈاکٹروں کو نہ صرف بے نقاب کردیا بلکہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ۷۹۱ کی پناہ گاہ میں بھی ان مجرمین کو پناہ حاصل نہیں ہوسکی، جبکہ تین افسران کو پنشن کے حق اور سہولیات سے بھی محروم کردیا گیا جو کہ پولیس نظام میں موجود فرقہ پرست عناصر کو خبردار کرنے کے لیے ایک کھلا پیغام ہے۔

ہمارا نظام عدلیہ صرف مجرمین کو ان کے جرم کی سزا تک ہی خود کو حتی المقدور محدود رکھنے کے قواعد کا پاسدار رہا ہے، ہمارے قوانین میں معاوضے کو لے کر کوئی اسکیم آج تک تیار نہیں ہوسکی ہے۔ مظفر نگر فسادات میں بھی عصمت دری کی شکار خواتین کو پانچ لاکھ کا ہی معاوضہ ملا تھا، بلقیس بانو کو بھی جو معاوضہ ہائی کورٹ سے ملا تھا وہ پانچ لاکھ ہی تھا لیکن عدالت عالیہ میں بلقیس نے یہ بات جج حضرات کو سمجھانے میں کامیابی حاصل کی کہ جو ظلم اور بربریت اس کے ساتھ ہوا ہے اس کا ہرجانہ پانچ لاکھ نہیں ہوسکتا اور بالآخر عدالت عالیہ نے حادثے کی نزاکت اور اس کے اثرات کو دیکھتے ہوئے پچاس لاکھ کا معاوضہ دیا۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کرمنل پروسیجر کوڈ میں ۸۰۰۲ء کی ترمیم کے بعد دفعہ ۷۵۳ اے کا اضافہ کیا گیا تھا جس کے مطابق ہر صوبائی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک فنڈ تیار کرے جس کے تحت مجرمانہ حادثات کے متاثرین اور ان کے متعلقین کے نقصانات کی بھرپائی و بازآبادکاری کے لیے اسکیم تیار کرے۔

فرقہ وارانہ فسادات ہمارے ملک و سماج کی ایک تلخ حقیقت ہیں، یہ فسادات جن کا شکار ہمیشہ اقلیتی و کمزور طبقات ہی رہے ہیں، جن کے ذریعہ ہمارے ملک کی سیاسی پارٹیوں نے اپنے سیاسی مقاصد خوب حاصل کیے ہیں، ہمارے پولیس نظام اور سیاسی پارٹیوں کی آپسی سانٹھ گانٹھ نے فسادات کو مزید مہلک بنادیا ہے۔ سکھ فسادات میں کانگریس پارٹی کے قدآور نیتا سجن کمار اور دہلی پولیس کے رول سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ سماج کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھا لیکن کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ پولیس کی جواب دہی کو لے کر کوئی سماجی تحریک پنپتی دکھائی نہیں دیتی۔

فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام اور پولیس و انتظامیہ کی جواب دہی طے کرنے کے لیے فرقہ وارانہ فسادات (روک تھام) بل ایک عرصے سے سرد بستے میں پڑا ہے، تعجب تو یہ ہے کہ موجودہ لوک سبھا الیکشن میں کانگریس کاسیاسی منشور بھی اس بل کے سلسلے میں خاموش نظر آیا۔ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ ملی و سماجی قائدین کی خاموشی تو پرانی کہانی ہوگئی سوال تو سماج کے سنجیدہ افراد سے بھی ہونا چاہیے کہ سماج کی حفاظت پر مامور پولیس و انتظامیہ کی جواب دہی کب طے ہوگی، سماج اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے سماجی تحریک کب شروع کرے گا۔

ہمارے ملک میں جمہوری نظام حکومت ہے۔ جمہوریت کا مطلب ہے عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام کے لیے۔ عوام کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو یہ حکومت کی ناکامی ہے اور ناکامی کی صورت میں نقصانات کی بھرپائی کی ذمہ داری بھی حکومت کی ہی ہوتی ہے۔ بلقیس بانو کے کیس میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے حکومت کی اس ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت پر نقصانات کی ذمہ داری ڈالی۔ یہ اصول ان تمام حادثات میں ہونا چاہیے جہاں حکومت فرقہ وارانہ فسادات یا مجرمانہ حادثات کی روک تھام میں ناکام ثابت ہو۔ پولیس افسران کا فرقہ وارانہ فسادات میں کس قدر فرقہ پرستانہ رول رہا ہے یہ کسی بھی طرح سماج، حکومت یا عدالت سے چھپا نہیں ہے، بلقیس بانو کا کیس ہو یا سکھ فسادات پر سجن کمار کا کیس ایک لمبی فہرست تیار کی جا سکتی ہے۔

ایک مثالی و پرامن سماج کی تشکیل کے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم حکومت، پولیس اور عدالت کے رول پر بحث کرنے کے ساتھ ساتھ سماج کی ذمہ داریوں اور ماضی میں ہوئی کوتاہیوں پر بھی غور کریں، مستقبل کو خوشگوار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی سے نصیحت حاصل کی جائے۔ قانونی معلومات حاصل کرنے کے لیے ہمارے ملک میں عوامی بیداری کی بنیادی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ سماج اپنے دستوری و شہری حقوق سے پوری طرح ناواقف ہے۔ قانونی رہنمائی اور بنیادی مدد و تعاون کے لیے کسی بھی طرح کا کوئی عوامی پلیٹ فارم موجود نہیں ہے۔ ظلم کے شکار افراد کی بازآبادکاری کے علاوہ سماج کے پاس قانونی چارہ جوئی کے لیے کوئی منظم لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔ قانونی امداد فراہم کرنے میں جمعیۃ العلماء اور جماعت اسلامی ہند کا کام لائق ستائش ہے لیکن سماج میں ایماندار و صلاحیت مند وکیلوں کی کمی کے باعث قانونی لڑائی ایک منظم تنظیم کی شکل اختیار کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ انصاف کا قیام اور فرقہ وارانہ فسادات و حادثات کی روک تھام تبھی ممکن ہوسکتی ہے جب مجرمین کو مروجہ قوانین کا استعمال کرتے ہوئے ان کو ان کے جرائم کی سزا ملے، متأثرین کو ان کے نقصانات کا بھرپور معاوضہ ملے، نیز حکومتی ادارے خاص کر پولیس ایماندارانہ تفتیش کے ساتھ ساتھ عدالت میں مقدمہ منصفانہ طریقے سے لڑا جاسکے جہاں نہ تو متأثرین کی جان کو خطرہ ہو اور نہ گواہ خوف یا لالچ میں اپنا بیان بدلنے پر مجبور ہوں نیز ملزمین کو بھی ان کی پسند کا وکیل ان کا دفاع کرنے کے لیے میسر ہو۔

ایک نظر اس پر بھی

بابری مسجد تاریخ کے آئینہ میں؛ 1528 میں بابری مسجد کی تعمیر کے بعد 1949 سے 2020 تک

ایک طویل عدالتی جد و جہد کے بعد گزشتہ سال نومبر کی 9 تاریخ کو سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا اور ایودھیا میں واقع بابری مسجد کے انہدام کو پوری طرح غیر قانونی بتا کر اراضی کی ملکیت اسی ہندو فریق کو سونپ دی جو مسجد کی مسماری کا ذمہ دار تھا۔

”دہلی کا فساد بدلے کی کارروائی تھی۔ پولیس نے ہمیں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی“۔فسادات میں شامل ایک ہندوتوا وادی نوجوان کے تاثرات

دہلی فسادات کے بعد پولیس کی طرف سے ایک طرف صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل مسلم نوجوانوں اور مسلم قیادت کے اہم ستونوں پر قانون کا شکنجہ کسا جارہا ہے، جس پر خود عدالت کی جانب سے منفی تبصرہ بھی سامنے آ چکا ہے۔

کیا ’نئی قومی تعلیمی پالیسی‘ ہندوستان میں تبدیلی لا سکے گی؟ .........آز: محمد علم اللہ

ایک ایسے وقت میں جب کہ پورا ہندوستان ایک خطرناک وبائی مرض سے جوجھ رہا ہے، کئی ریاستوں میں سیلاب کی وجہ سے زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، مرکزی کابینہ نے آنا فانامیں نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی۔جب کہ سول سوسائٹی اور اہل علم نے پہلے ہی اس پر سوالیہ نشان کھڑے کئے تھے اوراسے ایک ...

ملک پر موت اور بھکمری کا سایہ، حکومت لاپرواہ۔۔۔۔ از: ظفر آغا

جناب آپ امیتابھ بچن کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ حضرت نے تالی بجائی، تھالی ڈھنڈھنائی، نریندر مودی کے کہنے پر دیا جلایا، سارے خاندان کے ساتھ بالکنی میں کھڑے ہو کر 'گو کورونا، گو کورونا' کے نعرے لگائے، اور ہوا کیا! حضرت مع اہل و عیال کورونا کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ گئے۔

بھٹکل نیشنل ہائی وے کنارے پر مچھلی اور ترکاری کا لگ رہا ہے بازار۔ د ن بھر سنڈے مارکیٹ کا منظر

جب سے بھٹکل میں کورونا وباء کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہواتھا، تب سے ہفتہ واری سنڈے مارکیٹ اور مچھلی مارکیٹ بالکل بند ہے۔ لیکن ترکاری، فروٹ اور مچھلی کے کاروباریوں نے نیشنل ہائی وے، مین روڈ اور گلی محلوں کی صورت میں اس کا دوسرا نعم البدل تلاش کرلیا ہے۔

بابری مسجد کے "بے گناہ" مجرم ............ تحریر: معصوم مرادآبادی

بابری مسجد کا انہدام صدی کا سب سے گھناؤناجرم تھا۔ 6 دسمبر1992کو ایودھیا میں اس پانچ سو سالہ قدیم تاریخی عبادت گاہ کو زمیں بوس کرنے والے سنگھ پریوار کے مجرم خودکو سزا سے بچانے کے لئے اب تک قانون اور عدلیہ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہے ہیں۔ایک طرف تو وہ اس بات پر فخر کا اظہار کرتے ...

عالمی ادارہ صحت نے کہا؛ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے سے بڑھ رہے ہیں کورونا کے معاملات، نوجوان مریضوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کرونا وائرس سے متاثرہ نوجوانوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر سے لے کر جولائی کے وسط تک، کرونا وائرس کا شکار ہونے والے 60 لاکھ ...

جاپانی ماہرین کا کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لئے سوپر کمپیوٹر کے استعمال کا اعلان

کورونا وائرس کی روکتھام کے اقدامات سے متعلق جاپان کے انچارج وزیر نیشی مورا یاسوتوشی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت، مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاتے ہوئے، انفیکشنز پر قابو پانے کے نئے موثر اقدامات دریافت کرنے میں، رواں ماہ کے آخر تک کامیاب ہو جائے گی۔ جاپانی ...

کرناٹک سے 40 امیدوار سیول سرویسز امتحان میں کامیاب

کرناٹک سے زائداز 40 امیدواروں نے 2019 کے یونین پبلک سرویس کمیشن (یو پی ایس سی ) سیول سرویس امتحان میں کامیابی حاصل کی اور اب آئی اے ایس ، آئی ایف ایس اور آئی پی ایس اور دیگر میں ملازمت حاصل کریں گے۔

بھٹکل: مرڈیشور میں علاج نہ ملنے سے مریض کی موت۔ ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کے لئے اے سی کو دیا گیا میمورنڈم

دل کا دورہ پڑنے پر مریض کو کورونا وباء کے شک میں مرڈئشور سرکاری اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم نہ کرنے سے موت واقع ہونے کا الزام لگاتے ہوئے مریض کے گھروالوں کے علاوہ مقامی افراد نے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کو میمورنڈم دیا جس میں سرکار ی ڈاکٹر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیاگیا ...

بھٹکل میں کل 5 اگست کو 144 نافذ؛ ایودھیا میں رام مندر’شیلا نیاس اور بھومی پوجا‘کے پس منظر میں ریاست کے مختلف علاقوں میں احتیاطی اقدامات

یوپی کے ایودھیا میں 5اگست کو رام مندر کی تعمیر کے لئے ’شیلانیاس اور بھومی پوجا‘کی رسم اداکی جارہی ہے۔ اس پس منظر میں امن وامان اور شانتی بنائے رکھنے کے لئے بھٹکل تعلقہ میں تحصیلدار کی جانب سے دفعہ 144کے تحت 5اگست کی صبح 6بجے سے رات 8بجے تک امتناعی احکامات لاگو کرنے کا اعلان کیا ...