حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملے فورا بند ہونے چاہئیں: امریکا

Source: S.O. News Service | Published on 23rd September 2020, 10:30 PM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

دبئی،23/ستمبر(آئی این ایس انڈیا) امریکی محکمہ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کی سرحدوں پر ایرانی ہتھیاروں سے حوثیوں کے حملوں کو روکنا ہو گا۔

وزارت خارجہ نے منگل کی شام کہا کہ مارب پر حوثیوں کے حملوں سے ایک ملین یمنی باشندے بے گھر ہوئے ہیں۔ عالمی برادری کو حوثیوں کو یمن میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کو امداد میں رکاوٹ پیدا کرنے سے روکنا چاہیئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم یمن میں اقوام متحدہ کے مندوب کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ بیان میں‌ نشاندہی کی کہ حوثیوں کو اقوام متحدہ کی ٹیم کو آزادانہ کام کی اجازت دینا ہوگی تاکہ ملک کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب میں جازان کے علاقے میں سول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ کے میڈیا ترجمان محمد بن یحیی الغامدی نے کچھ دن قبل بتایا تھا کہ یمن کے علاقے سے حوثی ملیشیا نے گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہو گئے تھے۔

الغامدی نے کہا کہ حوثیوں‌کی طرف سے کی گئی گولہ باری کے نتیجے میں 5 شہری زخمی ہوگئے تھے جب کہ تین گاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

مسجد حرام کی صفائی ستھرائی کے لیے چار ہزار مرد و خواتین خدام مقرر

الحرمین الشریفین انتظامی امور کے نگران ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ عمرہ مناسک کی بحالی اور مسجد حرام میں نمازیوں کی تعداد بڑھائے جانے کے بعد حرم شریف اور بیت اللہ میں صفائی کے عملے کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اڈپی: سعودی عرب میں فیس بک اکاؤنٹ ہیاک کرکے ایک شخص کو پھنسانے کے معاملے میں  2ملزمین کے خلاف چار ج شیٹ 

سعودی عرب میں مقیم ہریش بنگیرا نامی ایک شخص کا فیس بک اکاؤنٹ ہیاک کرکے اس کے پیج پر مکہ اور کعبۃ اللہ کے تعلق سے ہتک آمیز مواد پوسٹ کرتے ہوئے سعودی پولیس کے ہاتھوں ہریش بنگیرا کی گرفتاری کا سبب بننے والے 2 بھائیوں کو اڈپی  پولیس نے گرفتار کیا ہے اور ان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ ...

انتخابی اشتہارات: ٹرمپ اور بائیڈن کی مہمات کیسے مختلف ہیں؟

امریکہ میں ری پبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حریف جو بائیڈن نے فیس بک اور انسٹا گرام پر اشتہارات چلانے کے لیے 100 ملین ڈالر استعمال کیے ہیں۔ یہ رقم تین نومبر کے صدارتی انتخاب کے لیے دونوں جانب سے جون سے اب تک خرچ کی گئی ہے۔