ممبئی 16/نومبر (ایس او نیوز/پی ٹی آئی): مہاراشٹرا کے ضلع تھانہ کی ایک عدالت نے 2021 میں چوری کے شبہے میں ایک نوجوان کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے والی واردات کو نہایت سنگین اور انتہائی ظالمانہ قرار دیتے ہوئے تین ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج وی جی موہیتے نے جمعہ کے روز ملزمین رامتیج عرف گاویا راما یادو (29)، امرجیت عرف چابی بندرا پرساد گپتا (29) اور چراغ عرف کلیا شوبھ ناتھ ٹھاکر (31) کو تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 (قتل)، 323 (زخمی کرنا) اور 504 (جان بوجھ کر توہین کرنا) کے تحت مجرم قرار دیا۔
عدالت نے تینوں کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے ہر ایک پر دس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
ایک دیگر ملزم شیوکمار عرف لالا بندر لوہد کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔
واردات 6 مارچ 2021 کو بھینڈر (ایسٹ) کے اندرا نگر علاقے میں پیش آئی تھی، جب 23 سالہ سورج بھان اوم پرکاش سونی اور اس کے ساتھی وکی عرف ابھیشیک سنگھ پر چوری کے شبہے میں بھیڑ نے حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں سونی شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ "انٹراکرینیئل ہیمرج اور برین کنٹیوژن" بتائی گئی۔
ایڈیشنل سرکاری وکیل رشمی کشرساگر نے بتایا کہ استغاثہ کی جانب سے مقدمہ ثابت کرنے کے لیے 10 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہنگامے کے دوران ہوئی مارپیٹ کی ویڈیوز سے جرم کی سنگینی اور ظلم کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔ اگرچہ ملزمین کم عمر ہیں اور ان کے اہلِ خانہ ان پر منحصر ہیں، مگر جرم کے ارتکاب کا طریقہ نرم رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
جج نے کہا، “عمر قید بنیادی سزا ہے، جب کہ موت کی سزا ایک استثنائی صورت ہے۔ موت کی سزا صرف اسی وقت دی جاسکتی ہے جب عمر قید ناکافی محسوس ہو۔” عدالت نے واضح کیا کہ یہ معاملہ "ریئر آف دی ریئر" کے زمرے میں نہیں آتا۔