نئی دہلی ، 9/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے پس منظر میں ہندوستان نے توانائی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے دیگر ممالک سے خام تیل کی خرید میں اضافہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہندوستانی کمپنیاں امریکہ، روس اور مغربی افریقہ میں واقع سپلائر ممالک سے اضافی خام تیل خریدنے کے لیے بات چیت کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خلل سے نمٹا جا سکے۔
یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک نہایت اہم سمندری راستہ تصور کی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فروری کے مہینے میں ہندوستان کے کل خام تیل کی درآمد کا تقریباً نصف حصہ اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے ملک تک پہنچا تھا۔
ہندوستان اپنی خام تیل کی مجموعی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے توانائی کی رسد کے مستحکم راستوں کا برقرار رہنا ملک کی توانائی سلامتی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں ممکنہ رکاوٹوں سے بچنے کے لیے کئی ریفائنریوں نے اپنی طے شدہ مرمتی سرگرمیوں کو مؤخر کر دیا ہے اور عام رفتار سے تیل کی پروسیسنگ جاری رکھی ہوئی ہے تاکہ آئندہ مہینوں میں ایندھن کی طلب کو پورا کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز سے باہر کے ذرائع پوری طرح فعال ہیں اور ہندوستان اس وقت نسبتاً پرامن علاقوں سے زیادہ مقدار میں تیل حاصل کر رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سال 2025 میں ہندوستان کے خام تیل کی درآمد کا تقریباً 60 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے باہر کے راستوں سے آیا تھا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد یہ حصہ بڑھ کر تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ایک عارضی چھوٹ نے بھی رسد کی صورتحال کو سہارا دیا ہے۔ اس رعایت کے تحت 5 مارچ سے پہلے جہازوں پر لادے گئے پابندی زدہ روسی خام تیل کی فروخت اور ترسیل کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ رعایت 5 اپریل تک مؤثر رہے گی اور اس سے پہلے سے سفر میں موجود کارگو کو پابندیوں کی خلاف ورزی کے بغیر منزل تک پہنچایا جا سکے گا۔
ادھر مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باوجود ہندوستان کی توانائی کی رسد مستحکم ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں بھی ملک توانائی کی دستیابی، استطاعت اور استحکام کو برقرار رکھنے کے چیلنج کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے راستے کے علاوہ دیگر تمام راستوں سے توانائی کی درآمد جاری ہے اور ملک کے شہریوں کی توانائی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہندوستان مضبوط پوزیشن میں ہے اور تشویش یا قیاس آرائی کی کوئی گنجائش نہیں۔