ممبئی ، 16/ نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)بہار میں این ڈی اے کی ناقابل یقین فتح کے بعد انڈیا اتحاد میں شامل بیشتر پارٹیوں نے اسے الیکشن کمیشن کی مدد سے حاصل کی گئی جیت قرار دیا ہے۔ این سی پی کے بانی شرد پوار نے سنیچر کے روز پہلی باراس تعلق سے گفتگو کی اورالیکشن سے قبل خواتین کے اکائونٹ میں ڈالے گئے دس ہزار روپوں کو این ڈی اے کی جیت کا اصل سبب قرار دیا۔ انہوں نے اس تعلق سے الیکشن کمیشن سے سوال بھی کیا کہ بہارحکومت کو کیسے اس کی اجازت دی گئی؟
شرد پوار نے ممبئی میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں ’’وزیر اعلیٰ خاتون روزگار اسکیم‘ این ڈی اے کیلئے کارگر ثابت ہوئی جس کے تحت خواتین کے اکائونٹ میں دس ہزار روپے جمع کروائے گئے تاکہ وہ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر سکیں۔ ‘‘ البتہ شرد پوار نے یہ بھی کہا کہ ’’خواتین کے اکائونٹ میں پیسے جمع کروانے کا وقت غلط تھا۔ کیا الیکشن کے وقت اس طرح سے پیسے جمع کروائے جا سکتے ہیں؟ الیکشن کمیشن کو اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہئے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ وہی طریقہ ہے جو مہاراشٹر الیکشن کے وقت بھی آزمایا گیا تھا۔ یہاں بھی لاڈلی بہن اسکیم کے تحت خواتین کے اکائونٹ میں پیسے جمع کروائے گئے تھے۔ حتیٰ کہ الیکشن کے دوران بھی پیسے جمع کروانے کا سلسلہ جاری تھا۔ اگر سیاسی پارٹیوں نے الیکشن جیتنے کیلئے یہی طریقہ اختیار کیا تو آئندہ عوام کا الیکشن پر سے یقین اٹھ جائے گا۔‘‘ پوار نے سوال اٹھایا کہ ’’ کیا اتنے بڑے پیمانے پر پیسوں کی تقسیم مناسب ہے؟ اس تعلق سے ہر کسی کو غور کرنا چاہئے، الیکشن کمیشن کو بھی سنجیدگی کے ساتھ اس پرغورکرنا ہوگا۔ الیکشن ہمیشہ صاف ستھرے طریقے سے اور شفافیت کے ساتھ ہونے چاہئے۔‘‘
شردپوار نے حالانکہ شکست کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی کہی تھی، مگر اس کے باوجود شردپوار کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس نے کہا ’’ جو جیتا وہی سکندر، انڈیا اتحاد کو اپنی شکست قبول کرلینی چاہئے اور شکست کے اسباب کا جائزہ لینا چاہئے۔ ‘‘ ناگپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا؛ ’’ہار کو کھلے دل سے قبول کرنا چاہئے۔ اپنی غلطیوں کا جائزہ لینا چاہئے۔ اپنا احتساب کرنا چاہئے لیکن اپنا احتساب کرنے پر اپوزیشن پارٹیاں راضی ہی نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ ’’ آپ کی حکومت تھی اس وقت آپ نے اسکیمیں کیوں نافذ نہیں کیں؟ ہم نے جو اسکیمیں پیش کیں وہ عوام کو پسند آئیں اور عوام نے اس کے بدلے ووٹ دیا۔ اس میں عوام کو قصور وار ٹھہرانے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
یاد رہے کہ مہاراشٹرا میں جس طرح اسمبلی الیکشن سے قبل شندے حکومت نے لاڈلی بہن اسکیم متعارف کروائی تھی اور ہر خاتون کے اکائونٹ میں ۱۵؍ سو روپے جمع کروانے کا سلسلہ شروع کیا تھا اسی طرح بہار میں نتیش کمار حکومت نے ’’ وزیر اعلیٰ خاتون روزگار اسکیم ‘ کے تحت ہر خاتون کے اکائونٹ میں ۱۰؍ ہزار روپے جمع کروائے تھے۔ کہاجا رہا ہے کہ الیکشن سے قبل پیسوں کی اسی تقسیم کے سبب این ڈی اے کو اتنی بڑی جیت ملی ہے۔ جبکہ الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر خاموش ہے۔