ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / امیت شاہ کے جسٹس ریڈی پرریمارکس عدلیہ کی توہین، ریٹائرڈ ججوں کا سخت ردعمل

امیت شاہ کے جسٹس ریڈی پرریمارکس عدلیہ کی توہین، ریٹائرڈ ججوں کا سخت ردعمل

Mon, 25 Aug 2025 18:05:42    S O News

نئی دہلی، 25 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) 18 ریٹائرڈ ججوں کے ایک گروپ نے، جن میں کئی سابق جج صاحبانِ سپریم کورٹ بھی شامل ہیں، مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے اپوزیشن کے نائب صدر کے امیدوار اور سابق سپریم کورٹ جج بی سدرشن ریڈی  کے خلاف دیے گئے حالیہ بیانات کو ’’افسوسناک‘‘ اور ’’جانبدارانہ غلط تعبیر‘‘ قرار دیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا تھا کہ جسٹس ریڈی نے 2011 کے سلوہ جڈوم فیصلے کے ذریعے نکسل تحریک (Naxalism) کی حمایت کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ اگر عدالت نے اس فیصلہ کے خلاف حکم نہ دیا ہوتا تو 2020 تک نکسل ازم ختم ہو گیا ہوتا۔ کیرالا میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ ریڈی ایک ایسی نظریاتی سوچ سے متاثر تھے جس نے نکسل مخالف کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی۔

ریٹائرڈ ججوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ سلوہ جڈوم فیصلہ کسی بھی شکل میں نکسل ازم کی حمایت نہیں کرتا اور وزیر داخلہ کے یہ ریمارکس عدالتی منطق کو مسخ کرنے کے مترادف ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’کسی سینئر سیاسی رہنما کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح عدلیہ کی آزادی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔‘‘

اس بیان پر دستخط کرنے والوں میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس کورین جوزف، جسٹس مدن بی لوکور، جسٹس جے چلمیشور، جسٹس اے کے پٹنائک، جسٹس ابھے اوکا، جسٹس وکرم جیت سین اور جسٹس گوپالا گوڑا شامل ہیں، اسی طرح مختلف ہائی کورٹس کے سابق چیف جسٹس اور ججز جیسے ایس مرلی دھر، گووند ماتھر، سنجیب بنرجی اور انجنا پرکاش بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

بیان میں زور دیا گیا کہ سیاسی گفتگو میں تحمل اور شائستگی کو اپنایا جانا چاہیے، خاص طور پر جب اعلیٰ دستوری عہدوں کے انتخابات ہوں۔ ’’نظریاتی بحث انتخابی مہم کا حصہ ہوسکتی ہے لیکن اسے وقار کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ نام لے کر الزام تراشی ان اعلیٰ عہدوں کی توہین ہے جن کے لیے مقابلہ ہو رہا ہے۔‘‘

جسٹس ریڈی نے مختصر ردعمل میں کہا کہ وہ کسی سیاسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ صرف ان کا ذاتی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے وزیر داخلہ نے مکمل فیصلہ پڑھے بغیر تبصرہ کیا ہو۔

واضح رہے کہ 2011 میں جسٹس ریڈی اور جسٹس ایس ایس نجیّر کی سربراہی میں دیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے میں قبائلی نوجوانوں کو نکسل مخالف کارروائیوں کے لیے اسپیشل پولیس آفیسر کے طور پر بھرتی کرنے کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا اور متنازعہ ملیشیا گروپ سلوہ جڈوم کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جسے چھتیس گڑھ حکومت کی حمایت حاصل تھی۔


Share: