بھٹکل 30 جولائی (ایس او نیوز): جولائی کے مہینے میں اچھی بارشوں کے نتیجے میں لِنگن مکی ڈیم کے بھر جانے کی جو امید کی جا رہی تھی، وہ پوری نہیں ہو سکی۔ جولائی کے آخری ہفتے تک پہنچنے کے باوجود ڈیم میں پانی کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جس نے ریاست میں آبی بجلی کی پیداوار، آبپاشی اور پینے کے پانی کی دستیابی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
شیموگہ ضلع کے ساگر تعلقہ میں شراوتی ندی پر واقع لِنگن مکی ڈیم، ساحلی شہر بھٹکل سے تقریباً 110 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کرناٹک کا سب سے بڑا آبی بجلی کا ذخیرہ ہے۔ ریاست کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں یہ ڈیم انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے اس میں پانی کی غیر معمولی کمی نے توانائی اور آبی وسائل کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
منگل کے روز لِنگن مکی ڈیم میں پانی کی سطح 1773.15 فٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 1810.50 فٹ تھی، یعنی اس سال پانی کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 37.35 فٹ کم ہے۔ گزشتہ برس جولائی کے اختتام تک ڈیم اپنی مجموعی گنجائش کا 82.12 فیصد بھر چکا تھا، جبکہ اس سال یہ صرف 29.03 فیصد تک ہی پہنچ سکا ہے، جو معمول سے کہیں کم ہے۔
عام حالات میں جولائی کے آخری ہفتے تک لِنگن مکی ڈیم میں پانی کی سطح 1815 فٹ سے تجاوز کر جاتی ہے اور کرناٹک پاور کارپوریشن (KPCL) اضافی پانی چھوڑنے کے لیے دوسرا نوٹس جاری کرتی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں متعدد مرتبہ جولائی کے آخری ہفتے یا اگست کے پہلے ہفتے ہی ڈیم مکمل طور پر بھر چکا تھا، جبکہ ایک دو مواقع پر پانی کی سطح 1819 فٹ تک پہنچنے کے بعد بتدریج پانی خارج کیا گیا تھا۔ تاہم اس مرتبہ وہی ڈیم، جو اس موسم میں عموماً لبریز رہتا تھا، غیر معمولی طور پر خالی دکھائی دے رہا ہے۔
اس تشویشناک صورتحال کی بنیادی وجہ ڈیم کے آبی ذخیرہ (کیچمنٹ) علاقوں میں بارش کی شدید کمی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں بادل بھی انتہائی کم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی بارش (Cloud Seeding) یا بارش میں اضافے کے لیے دیگر متبادل اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں صرف بجلی کی قلت ہی نہیں بلکہ پینے کے پانی کا بھی سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
آبی ذخائر میں پانی کی کمی کے باعث آبی بجلی کی پیداوار شدید متاثر ہوئی ہے، لیکن اس کا متبادل بھی آسانی سے دستیاب نہیں۔ اگر بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تھرمل پاور اسٹیشنوں کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کی جائے تو رائچور اور بلاری میں واقع ان بجلی گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں، کیونکہ ان علاقوں میں بھی خاطر خواہ بارش نہیں ہوئی۔ دوسری جانب شمسی توانائی محدود مقدار میں دستیاب ہے اور رات کے وقت اس سے بجلی حاصل نہیں کی جا سکتی، جبکہ نئے جوہری بجلی گھروں کے قیام کو ماحولیاتی کارکنوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ بارش کی مسلسل کمی کے باعث ہر سال منصوبہ بند مقدار میں آبی بجلی پیدا کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔ اگرچہ نجی کمپنیوں سے مہنگے داموں بجلی خریدی جا سکتی ہے، تاہم وہ بھی ریاست کی مکمل ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔
ماہرین کی مانیں تو کرناٹک پاور کارپوریشن مستقبل کے لیے پمپڈ اسٹوریج ہائیڈرو پاور منصوبوں کو ایک مؤثر حل تصور کرتی ہے۔ اس نظام کے تحت استعمال شدہ پانی کو دوبارہ ذخیرہ کرکے ضرورت کے وقت بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، جس سے اگر ایک یا دو برس بارش کم بھی ہو تو مسلسل بجلی کی فراہمی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
لِنگن مکی سمیت ریاست کے بڑے آبی بجلی منصوبے کرناٹک کو مجموعی بجلی کا تقریباً 30 سے 40 فیصد حصہ انتہائی کم لاگت پر فراہم کرتے ہیں۔ یہی منصوبے کسانوں کی زرعی زمینوں کو آبپاشی کے لیے بھی پانی مہیا کرتے ہیں۔ تاہم اس وقت تقریباً تمام بڑے آبی ذخائر کے کیچمنٹ علاقوں میں لِنگن مکی جیسی ہی صورتحال پائی جا رہی ہے۔ ایسی صورت میں اگر بجلی کی پیداوار جاری رکھی جائے تو پینے کے پانی کے ذخائر متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، اسی لیے فی الحال متعدد آبی بجلی منصوبوں میں بجلی کی پیداوار روک دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی سنگین رخ اختیار کر چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اگست کے پورے مہینے میں غیر معمولی بارش بھی ہو جائے، تب بھی ڈیموں میں پیدا ہونے والی موجودہ کمی کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔
کرناٹک پاور کارپوریشن کو اس وقت اپنی تاریخ کی ایسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جس کا اس نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا۔ اسی تناظر میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر بارش کی یہی صورتحال برقرار رہی تو ریاست کو مستقبل میں ویسی ہی شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسی ماضی میں مغربی بنگال کے بعض علاقوں میں دیکھی گئی تھی۔