بنگلورو، 15 /ستمبر(ایس او نیوز ) کرناٹک کے وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے ریاست میں کم بارش اور بگڑتی ہوئی خشک سالی کی صورتحال کے درمیان عوام کو آنے والے دنوں میں پانی اور بجلی کی ممکنہ قلت کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بارش کی کمی کے باعث حالات تشویشناک ہیں اور حکومت پانی و بجلی کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
شیوکمار نے بتایا کہ ریاست کے 239 تعلقوں میں سے 200 سے زائد تعلقے کم بارش اور خشک سالی کی صورتحال سے متاثر ہیں، جبکہ حکومت پہلے ہی 101 تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دے چکی ہے۔ دیگر متاثرہ علاقوں کو بھی مرکزی حکومت کے مقررہ رہنما اصولوں کے مطابق مرحلہ وار خشک سالی سے متاثرہ قرار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق ریاست میں فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی نے پینے کے پانی کی فراہمی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کی صورتحال میں فوری بہتری نہ آنے کی صورت میں آنے والے دنوں میں پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ریاست میں بجلی کی صورتحال بھی حکومت کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ شیوکمار نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے بجلی کی چوٹی کی طلب 19,000 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی تھی۔ بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے کرناٹک کو تقریباً 11 سے 12 روپے فی یونٹ کی قیمت پر اضافی بجلی خریدنی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے اوقات میں بجلی کے استعمال میں اضافے کے باعث مجموعی طلب مزید بڑھی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر دیگر ریاستوں سے بجلی خرید کر کرناٹک کو فراہم کی جا سکتی ہے۔ البتہ اس کے لیے اضافی لاگت برداشت کرنا ہوگی۔ اس سلسلے میں توانائی کے وزیر کے جارج اور متعلقہ افسران کے ساتھ اجلاس بھی منعقد کیا جا چکا ہے۔
دریں اثنا، کرناٹک کے آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال بھی حکومت کے لیے باعث تشویش ہے۔ نائب وزیراعلیٰ جی پرمیشورا نے کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے تمل ناڈو کے لیے پانی چھوڑنے سے متعلق ہدایات پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق کابینی ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 50 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے، جبکہ ہارنگی ڈیم تقریباً نصف گنجائش پر ہے اور کرشنا راج ساگر ڈیم میں ذخیرہ تقریباً 55 سے 60 فیصد کے آس پاس ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پینے کے پانی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ریاست میں بارش کی کمی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کرناٹک اسٹیٹ نیچرل ڈیزاسٹر مانیٹرنگ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں اب تک ریاست کو معمول کی تقریباً 51 ملی میٹر بارش کے مقابلے میں صرف 10 ملی میٹر بارش ملی، جو تقریباً 81 فیصد کمی ہے۔ جون میں بارش معمول سے 42 فیصد، جولائی میں 29 فیصد اور اگست میں تقریباً 23 فیصد کم رہی۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً پوری ریاست بارش کی کمی سے متاثر ہے۔ حالیہ جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ 31 میں سے 30 اضلاع میں معمول سے کم بارش ہوئی ہے، جبکہ کئی علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومت مزید تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دینے کے لیے تکنیکی اور سائنسی جائزہ لے رہی ہے۔
شیوکمار نے اس سے قبل بھی واضح کیا تھا کہ خشک سالی کا اعلان سیاسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ سائنسی اور تکنیکی رپورٹس کی بنیاد پر مرحلہ وار کیا جائے گا۔ انہوں نے ارکان اسمبلی سے بھی کہا تھا کہ اگر ان کا تعلق فوری طور پر خشک سالی سے متاثرہ فہرست میں شامل نہ ہو تو وہ پریشان نہ ہوں، کیونکہ مزید علاقوں کو بھی جائزے کے بعد فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
حکومت نے خشک سالی کی صورتحال پر بحث اور کسانوں کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے 21 سے 23 ستمبر تک اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ حکومت متاثرہ علاقوں کی زمینی صورتحال کا جائزہ لے کر کسانوں کو ممکنہ امداد فراہم کرے گی۔
کرناٹک حکومت کے سامنے اس وقت دو بڑے چیلنج ہیں: ایک طرف کم بارش کے باعث پینے کے پانی اور آبپاشی کے لیے دستیاب ذخائر کا تحفظ، جبکہ دوسری طرف بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان بجلی کی مسلسل فراہمی۔ وزیراعلیٰ کی تازہ وارننگ اسی پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ اگر بارش میں نمایاں بہتری نہیں آتی تو ریاست کے عوام کو پانی اور بجلی دونوں شعبوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔