سری نگر ، 27/اگست (ایس او نیوز / ایجنسی)بارش نہ ہو تو بھی پریشانی اورزیادہ ہوجائے تو بھی پریشانی۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال سے منگل کو جموں کے لوگ جوجھ رہے ہیں۔ وہاں تیز بارش کے ساتھ ہی بادل پھٹنے کا بھی واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے ۵؍ افراد ہلاک اور ۱۴؍ زخمی ہوگئے۔ مہلوکین یاترا سے واپس آرہے تھے۔ تیز بارش کی وجہ سے دیگر کئی ریاستوں میں بھی سیلابی کیفیت ہے۔
جموں میں بادل پھٹنے کا یہ واقعہ’ ویشنو دیوی یاترا‘ کے راستے میں پیش آیا۔زخمیوں کو کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کٹرہ لے جایا گیا ہے۔اسی کے ساتھ خراب موسم کی وجہ سے ویشنو دیوی یاترا ملتوی کر دی گئی۔ ایک دوسرے حادثے میں جموں کی توی ندی پر پل کے قریب سڑک دھنس گئی جس کی وجہ سے حادثے میں کئی گاڑیاں گر گئیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی راحتی کام کیلئے پولیس کی ٹیم پہنچ گئی ہے۔ نقصان کے بارے میں ابھی تک ٹھیک سے اندازہ نہیں لگایا جاسکا ہے۔
بادل پھٹنے کی وجہ سے علاقے میں ایک درجن سے زائد مکانات بھی بہہ گئے ہیں۔ اطلاع کے مطابق جموں کشمیر میں مسلسل تین دنوں سے موسلادھار بارش ہو رہی ہے جس کی وجہ سے دو دنوں سے اسکول اور کالج بند ہیں اور کوئی بڑا حادثہ پیش نہ آئے، اسلئے احتیاطاً جموں سری نگر اور بٹوٹ کشتواڑ سمیت کئی سڑکیں اور شاہراہیں بھی بند کردی گئی ہیں۔ سیلاب اور لگاتار بارش کی وجہ سے کئی جگہوں پر بجلی بھی غائب ہے،نتیجتاً لوگ انٹرنیٹ اور فون سروسز کا استعمال نہیں کر پا رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ہماچل پردیش میں بھی برا حال ہے۔ یہاں کلو اور منالی میں۲۰؍ سے زائد مکانات، دکانیں اور ریستوران بیاس ندی اور پہاڑی ندی نالوں میں ڈوب گئے ہیں۔ دریاؤں کے کناروں پر بنائے گئے۳۰؍ سے زائد مکانات بھی خطرے میں ہیں۔ کلو،منالی سڑک کا ایک حصہ بیاس ندی میں بہہ گیا ہے جس کی وجہ سے منالی کا کلو ضلع ہیڈکوارٹرز سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔کلو کے ضلع مجسٹریٹ تورول ایس رویش نے بتایا کہ مسلسل بارش کی وجہ سے کئی مقامات پر قومی شاہراہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بیاس ندی میں پانی کی سطح کافی بلند ہے،اسلئے آس پاس کے کئی علاقے خالی کرالئے گئے ہیں اور کچھ علاقے خالی کرائے جا رہے ہیں۔
پنجاب میں جالندھر کے ضلعی کمشنر ڈاکٹر ہمانشو اگروال نے منگل کو کہا کہ مسلسل بارش کے پیش نظر ضلع انتظامیہ دریائے ستلج کے کنارے سیلاب کے ممکنہ علاقوں کی صورتحال پر۲۴؍ گھنٹے نظر رکھ رہی ہے اور ضلع انتظامیہ کسی بھی سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے کیونکہ دریا کا پانی خطرے کے نشان سے نیچے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود انتظامیہ ہر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل تیار ہے۔ افسروں کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ وہ خود فیلڈ میں جا کر صورتحال کا جائزہ لیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔
شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیرسنگھ بادل نے منگل کو کہا کہ پنجاب میں سیلاب کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر۳۱؍ اگست کو موگا میں ہونے والی پارٹی کی فتح ریلی کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔اکالی دل کے صدر نے پارٹی کے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جا کر متاثرین کی مدد کریں۔ انہوں نے پارٹی کارکنان سے متاثرہ علاقوں میں ڈیزل، پلاسٹک پائپ، ٹریکٹر، کھانے کے پیکٹ اور چارہ فراہم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
الہ آبادمیں گنگا اور جمنا ندیوں میں ایک بار پھر طغیانی ہے۔ گزشتہ ۲۴؍گھنٹوں میں گنگا ندی کے پانی کی سطح پھاپھامئو میں ۱۴۳؍ سینٹی میٹر اور چھتناگ میں۲۸۶؍ سینٹی میٹر بڑھ گئی ہے جبکہ نینی میں جمنا ندی کے پانی کی سطح میں۲۸۸؍ سینٹی میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔