احمد آباد، 28 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) معروف روزنامہ دینک بھاسکر کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ گجرات کی دس غیر معروف اور غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں (Registered Unrecognised Political Parties) نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تقریباً 4,300 کروڑ روپے چندے کی صورت میں حاصل کیے ہیں، حالانکہ ان جماعتوں کا انتخابی سیاست میں کردار نہایت معمولی رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2019-20 سے 2023-24 کے درمیان یہ جماعتیں صرف 43 امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتار سکیں اور مجموعی طور پر صرف 54 ہزار 69 ووٹ ہی حاصل کر پائیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کے سرکاری طور پر پیش کردہ انتخابی اخراجات صرف 39 لاکھ 2 ہزار روپے درج ہیں، لیکن انہی جماعتوں کی آڈٹ رپورٹوں میں تقریباً 3,500 کروڑ روپے کے خرچ کا اندراج موجود ہے۔
وہ دس سیاسی جماعتیں جنہیں گجرات میں بھاری چندہ موصول ہوا، ان میں شامل ہیں: لوکشاہی سٹا پارٹی (Lokshahi Satta Party) کو تقریباً 1,045 کروڑ روپے، ستیاوادی رکھشک پارٹی (Satyavadi Rakshak Party) کو 416 کروڑ روپے، نیو انڈیا یونائیٹڈ پارٹی (New India United Party) کو 608 کروڑ روپے، بھارتیہ نیشنل جنتا دل (Bharatiya National Janata Dal) کو 962 کروڑ روپے، سواتنتر ابھیویکتی پارٹی (Swatantra Abhivyakti Party) کو 663 کروڑ روپے، بھارتیہ جن پریشد (Bharatiya Jan Parishad) کو 248 کروڑ روپے، سوراشٹرا جنتا پارٹی (Saurashtra Janata Party) کو 20 کروڑ روپے، جان من پارٹی (Jan Man Party) کو 133 کروڑ روپے، مانوادھیکار نیشنل پارٹی (Manavadhikar National Party) کو 120 کروڑ روپے، اور غریب کلیان پارٹی (Garib Kalyan Party) کو 138 کروڑ روپے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار براہِ راست گجرات چیف الیکٹورل آفیسر کے پاس جمع کرائی گئی کنٹری بیوشن رپورٹس اور آڈٹ فائلنگ سے حاصل کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر صرف "لوکشاہی سٹا پارٹی" نے ہی اکیلے 1,045 کروڑ روپے چندے کی مد میں دکھائے ہیں۔
ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (Association for Democratic Reforms - ADR) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ درج کیا گیا ہے، جبکہ مالیاتی شفافیت کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال پر کئی قومی سطح کے سیاسی لیڈروں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے فوری اور سخت جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
فی الحال الیکشن کمیشن کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اعداد و شمار درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ہندوستانی جمہوریت کے مالیاتی ڈھانچے میں بڑے گھپلے اور شدید بدعنوانی (corruption) کی نشاندہی کرتے ہیں۔