ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / علی گڑھ میں مندروں پر "آئی لو محمد" لکھنے کے الزام میں چار ہندو افراد گرفتار، پولیس نے کیا فرقہ وارانہ سازش کاانکشاف

علی گڑھ میں مندروں پر "آئی لو محمد" لکھنے کے الزام میں چار ہندو افراد گرفتار، پولیس نے کیا فرقہ وارانہ سازش کاانکشاف

Fri, 31 Oct 2025 08:30:13    S O News
علی گڑھ میں مندروں پر "آئی لو محمد" لکھنے کے الزام میں چار ہندو افراد گرفتار، پولیس نے کیا فرقہ وارانہ سازش کاانکشاف

علی گڑھ 31/اکتوبر (ایس او نیوز): اتر پردیش پولیس نے ضلع علی گڑھ کے لوڈھا تھانہ علاقے میں واقع چار مندروں کی دیواروں پر "I Love Mohammad" لکھنے کے الزام میں چار ہندو نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ پولیس تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے یہ حرکت مسلمانوں کو بدنام کرنے اور شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے مقصد سے کی تھی۔

علی گڑھ میں ہفتے کے روز اس وقت تناؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی جب بھگوان پور اور بولاگڑھ دیہات کے مندروں کی دیواروں پر انگریزی میں "I Love Mohammad" لکھا پایا گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بھاری فورس تعینات کی اور علاقے کا محاصرہ کیا۔

 سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) نیرج کمار جادون نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ "غلط املا، سی سی ٹی وی فوٹیج، دیہاتیوں سے پوچھ گچھ، موبائل کال ریکارڈز اور عدالت میں جاری کیسوں کے ریکارڈ سے ہمیں حقیقت تک پہنچنے میں مدد ملی۔"

پولیس کے مطابق نعرے میں لفظ "Mohammad" کی اسپیلنگ بھی غلط لکھی گئی تھی، اور ایک جگہ "Mamud" تحریر تھا، جس سے شک پیدا ہوا۔ بعد ازاں شواہد کی بنیاد پر یہ بات ثابت ہوئی کہ اس واقعے کے پیچھے ہندو برادری کے ہی کچھ لوگ ملوث تھے جن کا مقصد مسلمانوں کو جھوٹے الزام میں پھنسانا تھا۔

ملزمان کی شناخت جیشانت کمار (رہائشی بولاگڑھی)، آکاش، دلیپ کمار اور ابھیشیک سرسوت (تینوں بھگوان پور کے رہائشی) کے طور پر ہوئی ہے۔ ایک پانچواں شریکِ ملزم راہل فی الحال مفرور ہے اور پولیس نے اس کی گرفتاری کے لیے تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔

ابتدائی طور پر کرنی سینا کی شکایت پر نامعلوم افراد کے خلاف بی این ایس کی دفعات 299 (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا عمل) اور 351(2) (فوجداری دھمکی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ملزمان کے نام سامنے آنے پر ان پر مزید سنگین دفعات 192 (فساد بھڑکانے کی اشتعال انگیزی)، 197 (مذہبی مقام پر جرم)، 229 (جھوٹے شواہد)، 61(2) (فوجداری سازش) اور کریمنل لا ترمیمی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس نے واقعے کو دو جائیدادی تنازعات سے منسلک قرار دیا ہے۔ جانچ میں پتہ چلا ہے کہ ملزم راہل کی گل محمد نامی شخص کے خاندان کے ساتھ پراپرٹی کا پرانا جھگڑا تھا، جس کی وجہ سے پچھلے سال بھی تصادم ہوا تھا۔ 

دوسرا کیس 9 ستمبر 2025 کو درج ہوا تھا جس میں جیشانت اور مستقیم کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، اور دونوں زخمی ہوئے تھے۔ایس پی (سٹی) مرِگَنك شیکھر پاٹھک کے مطابق پولیس نے واقعے میں استعمال ہونے والا اسپرے کین بھی برآمد کر لیا ہے۔

ایس ایس پی نیرج جادون نے عوام سے صبر اور تعاون کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "ہم گاؤں والوں اور علی گڑھ کے شہریوں کے اعتماد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے تحمل سے کام لیا، پولیس پر بھروسہ رکھا اور کسی بھی قسم کی کشیدگی کو جنم نہیں لینے دیا۔ اسی تعاون کے باعث ہم متاثرہ معاملے کے اصل مجرموں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔"

پولیس نے یقین دلایا ہے کہ مفرور ملزم جلد گرفتار کیا جائے گا اور کسی بھی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ علی گڑھ میں اس وقت فضا پُرامن ہے تاہم پولیس چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہے۔


Share: