کولکاتہ، 3/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ایس آئی آر کے تئیں ملک بھر میں جو خدشات پائے جارہے ہیں، وہ بے بنیاد نہیں ہیں۔ بہار کے بعد اب مغربی بنگال میں بھی بڑے پیمانے پر ووٹرس کے نام کاٹے جانے کے خدشات پائے جارہے ہیں۔ دریں اثنا الیکشن کمیشن نے خودہی مغربی بنگال میں ۱۶؍ دسمبر کو شائع ہونے والی مسودہ لسٹ سے۴۳؍ لاکھ سے زائد ووٹرس کے ناموں کو حذف کئے جانے کا اشارہ دیا ہے۔
ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے خبردار کیا ہے کہ یہ تخمینہ مزید بڑھ سکتا ہے، کیونکہ یہ اندازہ پیر یعنی یکم دسمبر تک بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کے ذریعہ ووٹروں کی گنتی کے ڈیجیٹائزیشن کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ مغربی بنگال میں۲۷؍ اکتوبر کو اپ ڈیٹ کی گئی فہرست کے مطابق ووٹروں کی کل تعداد۷؍ کروڑ۶۶؍ لاکھ۳۷؍ ہزار۵۲۹؍ ہے۔ حکام کے مطابق ووٹر لسٹ سے جن ناموں کو حذف کرنے کیلئے نشان زد کیا گیا ہے ان میں بڑی تعداد فوت شدہ ووٹروں کی ہے۔ ان فوت شدہ ووٹروں کی تعداد تقریباً۲۱؍ لاکھ ہے۔ مزید برآں، تقریباً۵؍ لاکھ ووٹروں کو لاپتہ قرار دیا گیا ہے۔ ایسے ووٹروں کی تعداد جو اپنے رجسٹرڈ پتے سے دور چلے گئے ہیں ان کی تعداد تقریباً۱۵ء۱۰؍ لاکھ ہے، جبکہ فرضی یا ڈپلیکیٹ اندراجات کی تعداد ایک لاکھ سے کچھ کم بتائی جاتی ہے۔ حکام نے کہا کہ لاپتہ ووٹروں کی تعداد میں تبدیلی ہو سکتی ہے کیونکہ تصدیق کے دوران کچھ افراد کا پتہ چل بھی سکتا ہے۔
دریں اثناءبی جے پی نے سوال کیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹر لسٹ مکمل طور پر صاف کیسے ہو سکتی ہے؟ پارٹی نے ان مقامات سے جمع کئے گئے گنتی کے کاغذات کی دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جےپی لیڈر شوبھندو ادھیکاری نےالیکشن کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ ریاست میں جاری ایس آئی آر کے دوران۲۶؍ تا ۲۸؍نومبر کی تین تاریخوں کے اندراجات کا آڈٹ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں میں تقریباً۱ء۲۵؍ کروڑ گنتی کے فارم کے اندراجات ریکارڈ کئے گئے، جو کہ غیر متوقع تعداد ہے۔ اسلئے اس کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہئے۔ خیال رہے کہ بی جے پی ایس آئی آر کی حمایت کرتی ہے اور اس کی وجہ سے ریاستی حکومت کے کارکنان سے اس کے کارکنان ٹکراتے بھی رہتے ہیں۔ اسی طرح ایس آئی آر کےکام پرمامور کئے گئے بی ایل اوز بھی الیکشن کمیشن کے خلاف مسلسل احتجاج کررہے ہیں اور ان میں سے کئی بی ایل اوز نے خود کشی بھی کرلی ہے لیکن الیکشن کمیشن اپنے فیصلے کے تئیں بضد ہے۔