بھوپال، 25 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے جیوترادتیہ سندھیا کے کانگریس چھوڑنے اور حکمراں جماعت میں شامل ہونے کے واقعہ پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پورے معاملے میں اُن پر لگے الزامات بے بنیاد ہیں اور یہ اُن کی بدقسمتی ہے کہ ہمیشہ اُنہیں ایسے کاموں کے لیے قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے جن کے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔
ایک پوڈکاسٹ میں سینئر صحافی ملند کھانڈیکر سے بات کرتے ہوئے دگ وجے سنگھ نے کہا کہ سندھیا اور کمل ناتھ کے درمیان اختلاف نظریاتی نہیں بلکہ شخصی نوعیت کا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب مرکزی مبصرین بھوپال آئے تو تقریباً 90 اراکین اسمبلی کمل ناتھ کے حق میں تھے، جبکہ صرف 24 یا 25 ایم ایل ایز نے سندھیا کی حمایت کی۔ دگ وجے سنگھ کے مطابق، انہیں یقین نہیں تھا کہ سندھیا پارٹی چھوڑیں گے کیونکہ روانگی سے ایک ہفتہ قبل تک وہ کسانوں کے لیے ریاستی حکومت کے ایک پروگرام میں شریک ہوئے تھے اور ان کے قریبی وزراء کابینہ کی میٹنگ میں بھی شامل تھے۔
خیال رہے کہ 10 مارچ 2020 کو 54 سالہ اسٹینفورڈ ایم بی اے اور سابق مرکزی وزیر سندھیا نے کانگریس چھوڑ دی تھی، حالانکہ ان کے خاندان کی اس جماعت سے کئی دہائیوں پرانی وابستگی رہی ہے۔ ان کی دادی راج ماتا وجیاریجے سندھیا اور والد مادھو راؤ سندھیا بھی کانگریس کے ساتھ وابستہ رہے تھے۔
سال 2018 میں مدھیہ پردیش اسمبلی کی 230 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں کانگریس نے 114 سیٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تھی جبکہ بی جے پی 109 پر محدود رہی تھی۔ کانگریس نے سندھیا کے گڑھ چندیری-گوالیار علاقے میں خاص کامیابی حاصل کی تھی اور 34 میں سے 16 نشستیں جیتی تھیں۔ تاہم سندھیا کے پارٹی چھوڑنے کے محض 13 دن بعد کانگریس حکومت گر گئی اور ریاست میں دوبارہ بی جے پی کی واپسی ہوئی۔
دگ وجے سنگھ نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا کہ ان کی وجہ سے کمل ناتھ حکومت گری۔ انہوں نے کہا: ’’یہ بالکل غلط ہے، بلکہ میں نے تو ایسے کسی واقعہ کے خدشے سے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔‘‘ ان کے مطابق، انہوں نے دونوں دھڑوں کو قریب لانے کی کوشش کی تھی اور ایک صنعت کار کی مدد سے ملاقات بھی کرائی گئی تھی۔ اس ملاقات میں کچھ نکات پر اتفاق ہوا لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا، جس کے باعث اختلافات برقرار رہے۔
سنگھ نے مزید بتایا کہ گوالیار-چمبل خطے میں طے شدہ فیصلوں کو نافذ کرنے پر بات ہوئی تھی اور اگلے دن اس پر دستخط شدہ فہرست بھی جمع کی گئی تھی لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل بھوپال میں ایک پروگرام کے دوران سندھیا نے، دگ وجے سنگھ کو سامعین میں بیٹھا دیکھ کر، اسٹیج سے اتر کر ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں اسٹیج پر لے آئے تھے۔ دگ وجے سنگھ نے کہا کہ ’’میرا کبھی بھی مادھو راؤ سندھیا یا جیوترادتیہ سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں رہا۔‘‘