پٹنہ ، 24/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)پٹنہ کے تاریخی صداقت آشرم میں کانگریس کی توسیع شدہ ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اپنے ابتدائی بیان میں ملک اور بہار کے موجودہ سیاسی، اقتصادی اور سماجی حالات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ کھڑگے نے کہا کہ یہ اجلاس اس وقت منعقد کیا گیا ہے جب ہندوستان داخلی اور خارجی سطح پر شدید چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پیش آنے والی مشکلات وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کی ناکامی اور سفارتی پالیسی کی ناکامیوں کا نتیجہ ہیں۔ جو لوگ وزیراعظم کے دوست کہلائے جا رہے ہیں، وہی آج ہندوستان کو متعدد عالمی مسائل میں الجھا رہے ہیں۔ ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ آج جب ووٹر لسٹ میں رسمی طور پر تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، کانگریس کو اپنی ذمہ داری کے تحت بہار میں اس اجلاس کے ذریعے عوام کے حقوق اور جمہوریت کی حفاظت کے عزم کو دوہرانا ضروری ہے۔
انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 85 سال قبل رام گڑھ اے آئی سی سی اجلاس میں پہلی بار آئین ساز اسمبلی کے قیام کا مطالبہ سامنے آیا تھا، جس میں مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، سردار پٹیل اور ڈاکٹر امبیڈکر نے مل کر ہر شہری کو ’ایک شخص ایک ووٹ‘ کے حق سے نوازا۔
ملکارجن کھرگے نے کہا کہ جمہوریت کی بنیاد شفاف اور غیرجانبدار انتخابات ہیں لیکن آج الیکشن کمیشن کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور مختلف ریاستوں سے انکشافات کے جواب دینے کے بجائے پارٹی سے حلف نامے طلب کیے جا رہے ہیں۔
کھرگے نے کہا کہ ملک میں ووٹوں کی دھوکہ دہی کی سازش ہو رہی ہے، جس کا اثر غریب، مزدور، کسان، اقلیت اور کمزور طبقات پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے عوام میں ووٹر حقوق کے بارے میں آگاہی بڑھائی اور لوگ کھل کر پارٹی اور راہل گاندھی کے ساتھ کھڑے ہوئے۔
انہوں نے اقتصادی مسائل پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک میں نوکریوں کی کمی، مہنگائی، جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کی پالیسیوں نے عوام کی زندگی متاثر کی ہے۔ نوجوان بے روزگار ہیں اور دیہی علاقوں میں کھپت 50 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا۔
کھرگے نے کسانوں کی مشکلات اور حالیہ کسان تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تین کسان مخالف قوانین اور ان کے نتیجے میں 750 سے زیادہ کسان شہید ہوئے۔ انہوں نے حکومت کی ناکامیوں کو معاشی، سماجی اور مذہبی تقسیم کے پہلو سے بھی اجاگر کیا اور کہا کہ بہار کی حکومت نے ترقی کے وعدے پورے نہیں کیے، جس سے ’ڈبل انجن‘ کا دعویٰ کھوکھلا ثابت ہوا۔