ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مینگلور: کے ڈی پی اجلاس میں KRIDL معاملے پر ہنگامہ، بی جے پی ارکان کی یو ٹی قادر سے تکرار

مینگلور: کے ڈی پی اجلاس میں KRIDL معاملے پر ہنگامہ، بی جے پی ارکان کی یو ٹی قادر سے تکرار

Tue, 15 Sep 2026 15:28:39    S O News
مینگلور:  کے ڈی پی اجلاس میں KRIDL معاملے پر ہنگامہ، بی جے پی ارکان کی یو ٹی قادر سے تکرار

منگلورو، 15 ستمبر (ایس او نیوز): دکشن کنڑا ضلع کے ‘کے ڈی پی’ (کرناٹک ڈیولپمنٹ پروگرام) اجلاس میں منگل کو KRIDL کے مبینہ بدعنوانی معاملے پر زبردست بحث اور تلخ کلامی دیکھنے میں آئی، جہاں بی جے پی ارکان اسمبلی نے ضلع انچارج وزیر یو ٹی قادر سے کانگریس کے پُتّور رکن اسمبلی اشوک کمار رائے کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر اب تک کی کارروائی کے بارے میں سوالات کیے۔

یہ معاملہ پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اگست کے اواخر میں اشوک کمار رائے نے کرناٹک رورل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ لمیٹڈ (KRIDL) کے منگلورو ڈویژن کے افسران پر سرکاری ترقیاتی کام انجام دینے والے ٹھیکیداروں سے مبینہ طور پر 7 فیصد کمیشن طلب کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے اس معاملے میں وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو خط لکھ کر مکمل تحقیقات اور قصوروار پائے جانے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ رائے کا الزام تھا کہ متعلقہ افسران ٹھیکیداروں سے رقم وصول کرنے کے ساتھ ساتھ مطالبات کی مخالفت کرنے والوں کو مبینہ طور پر دھمکاتے بھی تھے۔

اس معاملے کے بعد یو ٹی قادر نے یکم ستمبر کو وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو خط لکھ کر KRIDL کے منگلورو ڈویژن کے ایگزیکٹو انجینئر وجے اور جونیئر انجینئر پرجول کو معطل کرنے اور الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرانے کی درخواست کی تھی۔ قادر کے مطابق ان افسران پر سرکاری اداروں کے لیے سامان کی فراہمی سے متعلق گروپ آرڈرز میں کمیشن طلب کرنے کے الزامات لگے تھے۔ انہوں نے تحقیقات میں الزامات ثابت ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

2 ستمبر کو قادر نے منگلورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ KRIDL سے متعلق الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو غلط معلومات دینے والوں کی بھی نشاندہی کی جانی چاہیے۔ قادر نے بتایا تھا کہ انہوں نے اپنے حلقے میں بارش سے ہونے والے نقصانات کی بحالی کے کام KRIDL کو دینے کے بجائے محکمہ تعمیرات عامہ (PWD) کے ذریعے کرانے کی ہدایت دی تھی۔ ان کے مطابق KRIDL میں مناسب عملہ اور مطلوبہ انجینئروں کی کمی بھی ہے۔

IMG-20260915-WA0018

اسی پس منظر میں آج کے ‘کے ڈی پی’ اجلاس میں بی جے پی ارکان نے اشوک رائے کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اس معاملے میں اب تک کیا کارروائی ہوئی ہے۔ بی جے پی ارکان نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر اشوک رائے کے بیان کو پہلے ان کے ’’تجربے کی کمی‘‘ سے جوڑا گیا تھا تو کیا ان کے الزامات کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟

اس دوران وزیر یو ٹی قادر اور بی جے پی رکن اسمبلی وائی۔ بھرت شیٹی کے درمیان بھی تلخ کلامی ہوگئی۔ قادر نے کہا کہ ضلع میں کئی سنگین مسائل ہیں اور اجلاس میں ان پر سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے بھرت شیٹی کو ’’بچکانہ حرکتیں‘‘ نہ کرنے کی تاکید کی۔

قادر کے اس تبصرے پر بی جے پی ارکان نے سخت اعتراض کیا۔ بھرت شیٹی نے سوال کیا کہ بدعنوانی کے سنگین الزامات کو ’’بچکانہ‘‘ کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے قادر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر بدعنوانی سے متعلق شکایات سامنے آتی ہیں تو انہیں سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

اجلاس کے دوران بی جے پی ارکان اور کانگریس رکن قانون ساز کونسل ایوان ڈی سوزا کے درمیان بھی معاملے کو لے کر زبانی تکرار ہوئی۔

بی جے پی ارکان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے قادر نے کہا کہ بی جے پی ارکان نے درست سوال اٹھایا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ الزامات سے متعلق معلومات کس نے فراہم کیں، تاہم محض یہ کہہ دینے سے کہ ’’کسی نے ایسا کہا ہے‘‘ کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

قادر نے کہا کہ اچھے افسران کے خلاف بھی تحقیقات مکمل کیے بغیر کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اب تک KRIDL کو اپنے طور پر کوئی براہ راست کام نہیں دیا ہے۔

وزیر نے کہا کہ تحقیقات سے یہ واضح ہوجائے گا کہ رکن اسمبلی کی جانب سے لگائے گئے الزامات درست ہیں یا افسران کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت درست ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق سامنے آنے کے بعد ہی ذمہ داری طے کی جاسکتی ہے۔

آخر میں یو ٹی قادر نے دکشن کنڑا کے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی کہ اشوک رائے کی جانب سے KRIDL کے افسران کے خلاف لگائے گئے الزامات اور ان کے بیان سے متعلق معاملے کی اعلیٰ سطح تک تحقیقات کرائی جائیں اور تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جائے۔

یوں KRIDL کا معاملہ، جو اگست کے آخر میں اشوک رائے کے الزامات سے شروع ہوا تھا اور 2 ستمبر کو وزیر یو ٹی قادر کی جانب سے غیر جانب دارانہ تحقیقات کے مطالبے تک پہنچا تھا، آج کے ‘کے ڈی پی’ اجلاس میں ایک مرتبہ پھر سیاسی گرما گرمی کا سبب بن گیا۔


Share: