پٹنہ، 31 /اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) الیکشن کمیشن نے بہار میں جاری خصوصی نظرثانی (Special Intensive Revision) کے بعد ریاست کے تمام ووٹروں کو نئے ووٹر شناختی کارڈ جاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ابھی اس بات پر حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ نئے کارڈ کب جاری کیے جائیں گے۔
عہدیداروں کے مطابق منصوبہ یہ ہے کہ بہار کے ہر ووٹر کو نیا کارڈ فراہم کیا جائے، لیکن اس عمل کو کب اور کس طریقے سے انجام دیا جائے گا، اس پر ابھی حتمی فیصلہ باقی ہے۔
جب ووٹروں کو اندراجی فارم (enumeration forms) دیے گئے تھے تو ان سے کہا گیا تھا کہ وہ فارم کے ساتھ اپنی حالیہ تصویر بھی جمع کرائیں۔ یہ نئی تصویر ریکارڈ کو اپڈیٹ کرنے اور نئے ووٹر کارڈ جاری کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
یکم اگست کو شائع ہونے والی بہار کی مسودہ ووٹر فہرست کے مطابق ریاست میں 7.24 کروڑ ووٹر ہیں۔ حتمی ووٹر لسٹ 30 ستمبر کو شائع کی جائے گی جبکہ اسمبلی انتخابات نومبر میں ہونے کا امکان ہے۔ موجودہ اسمبلی کی میعاد 22 نومبر کو ختم ہو رہی ہے اور اس سے قبل نئی اسمبلی کا قیام ضروری ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اب تک 99 فیصد لوگوں نے اندراجی فارم جمع کرا دیے ہیں، جبکہ تقریباً 30 ہزار افراد نے اپنے نام مسودہ فہرست میں شامل نہ ہونے پر درخواستیں دائر کی ہیں۔
علیحدہ طور پر بتایا گیا کہ بہار ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں ہر پولنگ بوتھ پر ووٹروں کی تعداد 1500 سے گھٹا کر زیادہ سے زیادہ 1200 کر دی گئی ہے تاکہ ووٹنگ کے دن زیادہ بھیڑ نہ ہو۔ اس انتظامی تبدیلی کے بعد ریاست میں پولنگ بوتھوں کی تعداد 77 ہزار سے بڑھا کر 90 ہزار کر دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ یہ اصلاحی مشق (rationalisation exercise) پورے ملک میں نافذ کی جائے گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں پورے ملک میں 10.5 لاکھ پولنگ بوتھ تھے۔