آرا ، 30/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) بہار اسمبلی انتخابات سے کچھ ہی ماہ قبل خصوصی نظرثانی (Special Intensive Revision) کے تحت ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ مسودہ ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد متعدد ووٹروں کے نام حذف یا غلط اندراج کیے گئے ہیں، جس پر عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
بھوجپور ضلع ضلع ہیڈکوارٹر آرا کے وارڈ نمبر 10 میں رہنے والے ایک خاندان کے نام مسودہ لسٹ سے غائب پائے گئے۔ اس میں 74 سالہ سابقہ اسکول ٹیچر میری ٹوپّو کو "مرحومہ" کے طور پر درج کیا گیا ہے، جبکہ ان کے تین بیٹوں چندن ٹوپّو، کلیرنس ٹوپّو اور البرٹ ٹوپّو کے نام ’شفٹڈ‘ فہرست میں ڈال دیے گئے ہیں۔
مزید یہ کہ میری ٹوپّو کی جنس مرد درج کی گئی، ان کے مرحوم شوہر سلوسٹر ٹوپّو کو والد کے طور پر دکھایا گیا اور ان کی عمر دس سال کم کرکے 64 لکھی گئی۔ خود میری نے کہا: "میں زندہ ہوں، صحت مند ہوں اور ووٹ بھی ڈالتی رہی ہوں، مگر حکومت نے مجھے مردہ قرار دے دیا ہے۔"
ان کے بیٹے کلیرنس کے مطابق، بوتھ لیول آفیسر (BLO) نے گھر آکر کبھی تصدیق نہیں کی۔ بعد میں جب فہرست آویزاں ہوئی تو ایک دوست کے ذریعے پتہ چلا کہ ان کی والدہ کو "مرحومہ" اور ان کے اپنے نام کو "شفٹڈ" قرار دیا گیا ہے۔ شکایت پر BLO نے بعد میں گھر آکر کاغذات لیے اور درستگی کی یقین دہانی کرائی۔
مقامی کونسلر اور BLO نے اپنی صفائی میں کہا کہ شناخت کی تصدیق نہ ہونے پر یہ اندراج کیا گیا، حالانکہ کسی بھی طرح کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی تھی۔
اسی دوران، 87 سالہ معروف ہندی و بھوجپوری مصنف کے ڈی سنگھ کا نام بھی مسودہ اور ڈیلیشن لسٹ، دونوں میں غائب پایا گیا۔ سنگھ نے بتایا کہ BLO نے ان کا آدھار کارڈ لیا تھا، مگر نام درج نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا: "میں نے 1961 میں ڈاک سروس سے کریئر شروع کیا اور 1998 میں ریٹائرمنٹ کے بعد متعدد کتابیں شائع کیں۔ ہم نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ووٹ ڈالا تھا۔ اتنی بڑی غلطی آخر کیسے ہوگئی؟"
انہوں نے مزید کہا کہ ووٹر لسٹ میں ترمیم جلدبازی میں کی جارہی ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں، خصوصاً بزرگ شہریوں کو بار بار دستاویزات پیش کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
بوتھ لیول افسران نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعتراف کیا ہے کہ محدود وقت میں گھر گھر جا کر تصدیق کرنا ناممکن سا ہے اور اس وجہ سے عوامی ناراضگی بڑھ رہی ہے۔
انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ ہی ووٹر لسٹ میں ایسی بے ضابطگیوں نے پورے عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔