پٹنہ، 14 نومبر (ایس او نیوز) بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے نتائج نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) کے حق میں ایک واضح اور زبردست مینڈیٹ دیا ہے۔ تازہ ترین رجحانات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، این ڈی اے ریاست کی کل 243 سیٹوں میں سے 202 سیٹوں پر نمایاں برتری حاصل کر چکا ہے، جس سے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا مسلسل پانچویں بار وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنا یقینی نظر آ رہا ہے۔
NDA نے اپنے 2020 کے نتائج (122 سیٹیں) کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ شام 5:30 بجے کے رجحانات کے مطابق، اپوزیشن مہاگٹھ بندھن محض 33 سیٹوں پر ہی آگے تھی، جبکہ پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی اپنا کھاتہ بھی کھولنے میں ناکام رہی۔
اہم جماعتوں کی کارکردگی (شام 5:30 بجے کے رجحانات)
NDA اتحاد میں شامل جماعتوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اور اب تک ملی اطلاع کے مطابق وہ 202 سیٹیوں پر سبقت حاصل کرچکا ہے، جس میں بی جے پی: 92 نشستوں پر آگے اور جے ڈی (یو): 83 نشستوں پر آگے ہے۔ ایل جے پی–آر وی (چراغ پاسوان): 19 نشستوں پر سبقت حاصل کرلی ہے اور ہندوستانی عوام مورچہ: 5 نشستوں پر آگے ہے۔
مہاگٹھ بندھن صرف 33 سیٹیوں پر سبقت بڑھانے میں کامیاب رہا ہے جس میں آر جے ڈی 26 سیٹوں پراور کانگریس: صرف 5 سیٹوں پر سبقت بنانے میں کامیاب نظر آرہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی مہاگٹھ بندھن، جس کی قیادت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کر رہا ہے، اقتدار حاصل کرنے کا اپنا خواب پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ تاہم، آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے راگھوپور سے 11,000 ووٹوں کی سبقت سے جیت حاصل کرنے کی اطلاع ہے۔
👩⚖️ خواتین ووٹرز کا فیصلہ کن کردار
میڈیا رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق، اس انتخابی کامیابی میں خواتین ووٹروں کے رجحانات نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جن حلقوں میں خواتین کی ووٹنگ شرح مردوں سے 10% یا اس سے زیادہ تھی، NDA کو وہاں کی 113 میں سے 96 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کامیابی کا سہرا مبینہ طور پر NDA کی مقبول اسکیم "Mukhyamantri Mahila Rozgar Yojana" کو دیا جا رہا ہے، جس کے تحت خواتین کو ماہانہ 10,000 روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
☪️ AIMIM کی کارکردگی (سیماںچل)
سیماںچل کے کئی حلقوں میں AIMIM نے حیرت انگیز کارکردگی دکھائی ہے۔رپورٹوں کے مطابق یہ پارٹی تقریباً 5 سے 6 نشستوں پر آگے تھی اور بعض پر جیت درج کر نے کی بھی خبر ہے۔ اطلاع کے مطابق کوچادھامان سے محمد سرور عالم اور Amour سے اخترالایمان کامیابی درج کرچکے ہیں ۔
📈 بڑے سیاسی اثرات
رجحانات سے پتہ لگایا جارہا ہے کہ جے ڈی (یو) کے لیڈر نتیش کمار لگاتار پانچویں بار وزیراعلیٰ بننے جا رہے ہیں، جو ان کی سب سے طویل مدت کے وزیر اعلیٰ ہونے کے ریکارڈ کو مزید مضبوط کرے گا۔ جبکہ بی جے پی ریاست میں ایک بار پھر سب سے بڑی پارٹی بننے کی طرف گامزن ہے، جس سے NDA اتحاد کے حکومتی فیصلوں میں اس کا وزن اور اثر مزید بڑھے گا۔ کہا جارہا ہے کہ NDA کی اس واضح برتری کا قومی سطح پر بھی مثبت اثر پڑے گا اور یہ 2029 کے عام انتخابات کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اس بار بہار اسمبلی انتخابات کا کل ووٹر ٹرن آؤٹ 67 فیصد سے زائد ریکارڈ کیا گیا، جو بہار کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔
I. 🎯 حتمی نتائج اور ووٹ شیئر کے اہم اعداد و شمار
NDA نے نہ صرف اپنے 2020 کے نتائج کو پیچھے چھوڑا ہے بلکہ ووٹ شیئر میں بھی واضح برتری حاصل کی ہے۔
جماعت/اتحاد نشستوں پر سبقت/کامیابی (تقریباً) ووٹ شیئر (تقریباً) حتمی صورتحال NDA اتحاد 202+ 47.2% واضح اکثریت اور حکومت سازی کے لیے تیار بی جے پی 92 22.4% NDA میں سب سے بڑی پارٹی جے ڈی (یو) 83 18.5% نتیش کمار وزارت اعلیٰ کے لیے ایل جے پی (آر وی) - چراغ پاسوان 22 5.7% سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والی پارٹی مہاگٹھ بندھن 36 37.3% تاریخی شکست آر جے ڈی 26 - توقعات سے کم کارکردگی کانگریس 5 - انتہائی کمزور کارکردگی دیگر 5 - - 📊 ووٹ شیئر کا فرق: این ڈی اے کو مہاگٹھ بندھن پر تقریباً 10 فیصد پوائنٹس کی واضح ووٹ شیئر برتری حاصل ہوئی، جس نے اس کی شاندار جیت کو ممکن بنایا۔