نئی دہلی، 3 اکتوبر (ایس او نیوز) ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جس ہندو تنظیم سے جڑے ہیں، اسی آر ایس ایس کے سربراہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ملک کی معیشت پر چند گنے چنے لوگوں کا قبضہ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں امیر اور زیادہ امیر جبکہ غریب اور زیادہ غریب ہوتا جا رہا ہے۔
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے وجئے دشمی کے موقع پر ناگپور میں سنگھ کی صد سالہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ایک نئے استحصالی نظام کو جنم دے رہی ہے جو سماج کے لئے خطرناک ہے۔ ان کے مطابق عالمی اقتصادی ماڈل میں بنیادی خامیاں موجود ہیں اور یہی خامیاں ہندوستانی معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو خود کفالت کی پالیسی اپناتے ہوئے دیسی ماڈل کے مطابق اقتصادی حکمتِ عملی وضع کرنی چاہئے تاکہ عوام کو حقیقی فائدہ مل سکے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق بھاگوت نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ جمہوری طریقہ کار میں ہی اس کا حل موجود ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عبادت گاہوں کی توہین، عظیم شخصیات کے خلاف غلط بیانی اور لاقانونیت کے ذریعے سماج کو تقسیم کرنے کی کوششیں دراصل منصوبہ بند اقدامات ہیں، جن کا مقصد مخصوص برادری کو مشتعل کرنا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس مسئلے پر اب موہن بھاگوت نے تشویش ظاہر کی ہے، اسی کو راہول گاندھی پہلے سے اٹھاتے رہے ہیں۔ راہل گاندھی بارہا یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ ہندوستانی معیشت پر بڑے صنعتکاروں، خاص طور پر اڈانی اور امبانی، کا قبضہ ہے۔ اسی کے ساتھ وہ یہ بات بھی کہتے رہے ہیں کہ ملک میں نفرت کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
بھائی چارگی اور یکجہتی کا پیغام عام کرنے کے لئے راہل گاندھی نے 2022–23 میں تاریخی "بھارت جوڑو یاترا" نکالی تھی، جس میں انہوں نے کنیا کماری سے لے کر کشمیر تک پیدل مارچ کیا۔ اس یاترا کا مقصد نفرت کی سیاست کو مسترد کرنا، ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دینا اور معیشت میں بڑھتی عدم مساوات کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ موہن بھاگوت کے اس خطاب میں سابق صدر رام ناتھ کووند، مرکزی وزیر نتن گڈکری اور کئی دیگر اہم لیڈران بھی موجود تھے۔