ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بہار انتخابی شکست کے بعد کانگریس کی دہلی میں پہلی جائزہ میٹنگ؛ انتخابی نتائج پر سنگین تحفظات، بی جے پی پر گڑبڑی کا الزام

بہار انتخابی شکست کے بعد کانگریس کی دہلی میں پہلی جائزہ میٹنگ؛ انتخابی نتائج پر سنگین تحفظات، بی جے پی پر گڑبڑی کا الزام

Sat, 15 Nov 2025 19:32:26    S O News
بہار انتخابی شکست کے بعد کانگریس کی دہلی میں پہلی جائزہ میٹنگ؛ انتخابی نتائج پر سنگین تحفظات، بی جے پی پر گڑبڑی کا الزام

نئی دہلی  15/ نومبر (ایس او نیوز): بہار اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی بدترین کارکردگی کے بعد پارٹی نے ہفتہ کو دہلی میں پہلی اہم جائزہ میٹنگ طلب کی۔ یہ اجلاس کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی ، جس میں راہل گاندھی، کے سی وینوگوپال اور اجے ماکن سمیت کئی سینئر رہنما شریک ہوئے۔

میٹنگ میں انتخابی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تنظیمی کمزوریوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور آئندہ کی  حکمت عملی کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کانگریس اس بات کا سنجیدگی سے تجزیہ کر رہی ہے کہ بہار میں اسے اتنی بڑی شکست کیوں ہوئی۔

کانگریس کا بی جے پی پر انتخابی گڑبڑی کا الزام

میٹنگ کے بعد کانگریس نے بی جے پی پر سنگین دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ پارٹی انتخابی گڑبڑی کے ثبوت جمع کر رہی ہے، جنہیں آئندہ دو ہفتوں میں ملک کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کانگریس نے اس بار 60 نشستوں پر امیدوار اتارے تھے لیکن صرف 6  نشستوں  پر ہی  کامیابی حاصل کر سکی۔ پارٹی کا ووٹ شیئر 8.71 فیصد رہا، جبکہ 2020 کے انتخابات میں وہ 70 نشستوں پر لڑ کر 19 سیٹوں پر جیت  درج کی تھی اور اسے 9.6 فیصد ووٹ ملے تھے۔

اجلاس کے بعد اجے ماکن اور دیگر رہنماؤں نے انتخابی نتائج پر شدید سوالات اٹھائے اور کہا کہ مہاگٹھ بندھن کی تمام جماعتیں اس نتیجے کو "غیر متوقع" سمجھتی ہیں اور اس کی مکمل تحقیقات چاہتی ہیں۔

مہا گٹھ بندھن کی شکست کی بڑی وجوہات

1. سی ایم چہرے سے ٹکٹ تقسیم تک اختلافات

میڈیا سے ملی رپورٹوں کے مطابق مہاگٹھ بندھن کی مجموعی نشستیں 50 تک بھی نہیں پہنچ سکیں، جس کی اہم وجہ آر جے ڈی اور کانگریس کی کارکردگی کو قرار دیا  جارہا ہے۔ راہل گاندھی اور تیجسوی یادو نے ’ووٹرس رائٹس یاترا‘ کے ذریعے اتحاد کا تاثر دینے کی کوشش کی، لیکن تیجسوی کو وزیر اعلیٰ کے چہرہ کے طور پر اعلان  کرنے پر اختلافات سامنے آگئے۔ بعد میں کانگریس نے تیجسوی کو وزیر اعلیٰ امیدوار مان لیا، مگر تب تک اندرونی کشیدگی کا پیغام ووٹروں  تک پہنچ چکا تھا، جس کا اثر انتخابی مہم اور ٹکٹ تقسیم پر صاف نظر آیا۔

2. ٹکٹ تقسیم کا معاملہ آخری لمحے تک لٹکا رہا

پہلے مرحلے کے نامزدگی واپس لینے کے آخری دن تک آر جے ڈی اور کانگریس سیٹوں پر اَڑی رہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امیدوار نامزدگی تو کراتے رہے، مگر یہ واضح نہیں تھا کہ کون سی پارٹی کتنی نشستوں پر لڑے گی۔ آخر میں آر جے ڈی 146، کانگریس 59، وی آئی پی 13، سی پی آئی ایم ایل 20، سی پی آئی 7، سی پی ایم 4 اور آئی آئی پی 2 نشستوں پر میدان میں اتری۔ 241 سیٹوں پر مہاگٹھ بندھن کے 250 امیدوار کھڑے ہو گئے۔

3. نو۔ نشستوں پر ایک دوسرے کے خلاف امیدوار

گٹھ بندھن  میں اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے 9 نشستوں پر کانگریس، آر جے ڈی اور بائیں بازو کی جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف امیدوار اتار دیے۔ اس سے ووٹ تقسیم ہوا اور سبھی سیٹیں مخالف جماعتوں نے جیت لیں۔

مثال کے طور پر: بچھواڑا (بیگوسرائے): کانگریس + سی پی آئی کے ووٹ ملا دیے جائیں تو بی جے پی سے 5,920 زیادہ بنتے ہیں، مگر ووٹ بٹنے سے بی جے پی جیت گئی۔
(دیگر نشستوں کی مثالیں بھی اسی طرح رپورٹ میں شامل ہیں)

4. انتخابی وعدے بے اثر ثابت ہوئے

کانگریس اور آر جے ڈی نے شروع سے ہی SIR، ووٹ چوری اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی صحت کو انتخابی ایشو بنایا، لیکن یہ بیانیہ ووٹ میں تبدیل نہ ہو سکا۔ راہل گاندھی ووٹر رائٹس یاترا کے بعد انتخابی مہم سے غائب رہے، جبکہ تیجسوی نے تنہا مہم چلائی۔ مہاگٹھ بندھن نے بڑے بڑے وعدے کیے، جن میں ہر خاندان کے ایک فرد کو نوکری، خواتین کو 30 ہزار کی مدد، 500 روپے کا سلینڈر، 25 لاکھ روپے تک مفت علاج، اور 200 یونٹ مفت بجلی شامل تھے۔ مگر یہ وعدے ووٹروں کے لئے بے اثر ثابت ہوئے۔

5. نتیش کمار کی ’10 ہزار‘ والی خواتین اسکیم نے موڑا انتخابی نتائج

مہاگٹھ بندھن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نتیش کمار کی ’مکھیا منتری مہیلا روزگار یوجنا‘ (MMRY) نے انتخابی منظرنامہ  کو پوری طرح بدل دیا۔ انتخابی اعلان سے چند دن قبل ایک کروڑ سے زائد خواتین کے اکاؤنٹس میں 10 ہزار روپے منتقل کیے گئے، جس پر 14 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ Opposition کا الزام ہے کہ یہ رقم براہِ راست ووٹر کے رویّے پر اثر انداز ہوئی، جس کے بعد این ڈی اے نے 2025 کے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی—بی جے پی 89 اور جے ڈی یو 85 نشستیں جیت کر کل 174 تک پہنچ گئی، جبکہ مہاگٹھ بندھن محض 35 نشستوں تک محدود رہا۔ این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار نے کہا کہ یہ اسکیم ’’این ڈی اے کے حق میں بڑا اثر پیدا کرنے میں کامیاب ہوئی‘‘ اس  تعلق سے انہوں نے  یہ بھی سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطے کے باوجود اس اسکیم کی تقسیم کی اجازت کس بنیاد پر دی۔


Share: