نئی دہلی 28/اگست (ایس او نیوز): ہندوستان سے امریکہ جانے والی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف کا اطلاق 27 اگست سے ہو چکا ہے، جس کے ساتھ ہی ہندوستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو زبردست دھچکا لگا ہے اور اس کے نتیجے میں کروڑوں لوگوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے اتنی بڑی ٹیرف لگائے جانے کے بعد ہندوستان بھر میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے اس پر معروف انگریزی نیوز پورٹل دی وائر نے تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق ہندوستانی برآمدکنندگان کی تنظیم فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز (FIEO) نے 26 اگست کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بھاری ٹیرف کے نفاذ نے ہندوستانی برآمدات کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تنظیم نے انکشاف کیا کہ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس بنانے والے کئی بڑے مراکز جیسے تریپور، نوئیڈا اور سورت میں فیکٹریوں نے پیداوار روک دی ہے کیونکہ بھاری ڈیوٹیز نے ان کی لاگت کو غیرمقابلتی بنا دیا ہے۔
FIEO کے صدر ایس سی رالہان نے اس فیصلے کو ہندوستان کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ، جو ہندوستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، وہاں اشیاء کی قیمتیں 30 تا 35 فیصد تک بڑھ جانے سے وہ چین، ویتنام، کمبوڈیا، فلپائن اور دیگر ایشیائی ملکوں کی مصنوعات کے مقابلے میں غیرمقابلتی ہو جائیں گی۔
رالہان نے کہا کہ امریکی حکومت نے ہندوستانی مصنوعات پر مزید 25 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی اشیاء پر مجموعی ڈیوٹی 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے سبب ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی صنعت ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے کم لاگت والے حریفوں کے مقابلے میں پیچھے جا رہی ہے۔
اسی طرح، سی فوڈ خاص طور پر جھینگا مچھلی کی صنعت بری طرح متاثر ہوگی، کیونکہ امریکی مارکیٹ ہندوستانی سی فوڈ برآمدات کا تقریباً 40 فیصد خریدتی ہے۔ اس اضافی ٹیرف سے اسٹاک ضائع ہونے، سپلائی چین میں رکاوٹ اور کسانوں کے لیے معاشی مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔
رالہان کے مطابق چمڑے، سیرامکس، کیمیکلز، ہینڈی کرافٹس اور قالین جیسے محنت طلب شعبے بھی سخت بحران سے دوچار ہوں گے اور ان کے لیے یورپ، میکسیکو اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ مسابقت برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے تاخیر، آرڈرز کی منسوخی اور لاگت کے تمام فوائد کے ختم ہو جانے کے خدشات ظاہر کیے۔
FIEO صدر نے فوری طور پر حکومت ہند سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات کو سہارا دینے کے لیے سود میں سبسڈی اسکیمیں اور ایکسپورٹ کریڈٹ سپورٹ فراہم کیا جائے تاکہ ورکنگ کیپیٹل اور لیکویڈیٹی برقرار رکھی جا سکے۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کم منافع اور زیادہ محنت پر مبنی برآمدات، جیسے ٹیکسٹائل، زیورات، جھینگا مچھلی، قالین اور فرنیچر، امریکی منڈی میں غیر پائیدار ہو سکتی ہیں۔ اس سے ہندوستان میں کم ہنرمند مزدوروں کی نوکریاں بری طرح متاثر ہوں گی، جو پہلے ہی بیروزگاری، برطرفیوں اور جمود کا شکار ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، سال 2025-26 میں امریکہ کو ہندوستان کی اشیاء کی برآمدات 40 تا 45 فیصد تک گر سکتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً دو تہائی برآمدی اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے وہ متاثر ہوں گی، جبکہ کچھ زمروں میں اصل ٹیرف شرح 60 فیصد سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔
تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (GTRI) نے حساب لگایا ہے کہ اس صورت میں ہندوستان کی برآمدات، جو 2024-25 میں تقریباً 87 ارب ڈالر تھیں، گھٹ کر اس سال صرف 49.6 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
پہلے کیے گئے ایک تجزیے میں یہ بتایا گیا تھا کہ نٹ اور وون کپڑوں (knitted & woven clothing) پر سب سے زیادہ ٹیرف لگایا گیا ہے اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات بھی بری طرح متاثر ہوں گی۔
ٹیکس ماہر وید جین نے کہا: ’’یہ کیسے درست ہے کہ تین ممالک کے جھگڑے میں کسی تیسرے ملک پر دباؤ ڈالا جائے، جبکہ وہ صرف ثالث کا کردار ادا کر رہا ہو؟‘‘
دوسری طرف بعض سابق سفارت کاروں نے مودی حکومت اور خاص طور پر وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت امریکہ کے نئے فیصلے کے لیے تیار نہیں تھی۔ وزارت خارجہ کے سابق سکریٹری ویویک کٹجو نے کہا کہ ہندوستانی عوام اس بارے میں جواب چاہتے ہیں۔