عدمِ تحمل پربیان کوملک مخالف قراردیا،ہندوستان کے ماحول پرامریکہ نے بھی کی تھی تنقید
پونے، 31؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )گزشتہ سال عامر خان کے عدمِ برداشت والے بیان سے ابھی تک کچھ لوگ صدمہ میں ہیں۔گرچہ یہ لوگ امریکہ کے بیان اورنصیحت پرچپی ساھے ہوئے ہیں۔ اس بار وزیر دفاع منوہرپاریکرنے عامر خان کا نام لیے بغیر ان پر حملہ بولا ہے۔عامر کے اس پرانے بیان کو یاد کرتے ہوئے پاریکر نے کہا کہ ایک اداکار نے کہا ہے کہ اس کی بیوی ہندوستان سے باہر جانا چاہتی ہے۔یہ افسوسناک بیان ہے، اگر میں غریب ہوں اور میرا گھر چھوٹا ہے تو کیا ہوا، میں اس وقت بھی اپنے گھر سے محبت کروں گا اور ہمیشہ اسے بنگلہ بنانے کا خواب دیکھوں گا۔واضح ہوکہ کل ہی امریکہ نے بھی عدم تحمل کے ماحول پرتشویش کااظہارکیاہے لیکن اس بارے میں پاریکرکی زبان نہیں کھلی ۔اس سے قبل بھی گذشتہ برس اوبامہ ملک میں بڑھتے عدم برداشت کے ماحول پراظہارتشویش کرچکے ہیں۔لیکن پاریکراوربی جے پی اینڈکمپنی اس پرخاموش ہے ۔پاریکر، سیاچن پرمراٹھی صحافی، قلمکار نتن گوکھلے کی کتاب کے اجراء کے بعد اپنی بات رکھ رہے تھے۔پاریکر نے جے این یو میں مبینہ ملک مخالف نعرے بازی کے واقعہ کا بالواسطہ طور پر ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کیسے کچھ لوگوں کو ملک کی مخالفت میں بولنے کی ہمت ہوتی ہے، ایسے لوگ جو ملک کے خلاف بولتے ہیں، انہیں اس ملک کے لوگوں کی طرف سے سبق سکھائے جانے کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں عامر خان نے کہا تھا کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ گزشتہ 6 - سات مہینوں میں ملک میں عدم تحفظ اور خوف کے احساس میں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے کہا تھا کہ میں جب گھر میں کرن کے ساتھ بات کرتاہوں، تو وہ کہتی ہیں کہ کیا ہمیں ہندوستان سے باہر چلے جانا چاہئے؟۔پاریکر نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ کس طرح بہت سے لوگوں نے عامر کے اس بیان کی مخالفت کرتے ہوئے اس آن لائن شاپنگ ویب سائٹ اسنیپ ڈیل کی موبائل ایپ کا بائیکاٹ کر دیا تھا جس کے وہ برانڈایمبسیڈر تھے، ساتھ ہی کمپنی نے بھی عامر کے ساتھ اشتہارات سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔