جموں کشمیرملک کاتاج،نوجوان محب و طن:راج ناتھ سنگھ
نئی دہلی،21؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )مانسون سیشن میں کشمیر کے مسئلہ پربحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جب بھی ملک کے سامنے چیلنج ہو گا سبھی لوگ اختلافات کو بھلا کر چیلنج کا سامنا کریں گے۔کشمیر کے حالات پر سبھی کوتکیف ہے۔غورطلب ہے کہ کل یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کے دوران وزیر اعظم بیرون ملک دورہ پر تھے، لیکن وہ ہمیشہ ہی کشمیر پر بات کرتے رہے اور ہدایات دیتے رہے۔12؍تاریخ کو لوٹتے ہی کشمیر کے حالات پر وزیر اعظم مودی نے میٹنگ کی۔انہوں نے کہ ہمارے ملک میں تنوع میں اتحاد ہے۔پارلیمنٹ میں بھی ایسا ہی ماحول ہے، جموں و کشمیر ملک کا تاج ہے،ہمارے پڑوسی کی بری نظر کشمیر پر ہے، کشمیر کے فخر کو بحال کرنے کے لیے یہ حکومت کام کرے گی،کشمیر کے حالات بگاڑنے میں پڑوسی ملک پاکستان کا کردار ہے، مذہب کی بنیاد پر ملک کی تقسیم ہوا اس کے باوجود پڑوسی ملک اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مذہب کے نام پر الگ ہوا اور اپنے مذہب کے لوگوں کو بھی ایک نہیں رکھ پایا، آج دو ٹکڑے ہو گئے ہیں، پاکستان دنیا کی توجہ تقسیم کرنے کے لیے یہ سب کرتا رہتا ہے۔پاکستان کو ہندوستان کے مسلمان کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اوروں کے گھر میں آگ لگانے والوں کو ایک دن اپنے گھر میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جن لوگوں نے کشمیر میں جان گنوائی ہے یا زخمی ہوئے ہیں اس کا سبھی کو افسوس ہے۔وزیر داخلہ نے آگے کہا کہ کشمیر کا نوجوان محب وطن ہے، انہیں ورغلانے کی کوشش ہو رہی ہے، جنہیں ورغلایا گیا ہے ان کو علیحدہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہی نہیں چھتیس گڑھ میں بھی نکسلی یہی کرتے ہیں، سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی شہادت پر لوگ جشن مناتے ہیں۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ گمراہ ذہنیت والے لوگوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔کشمیر کے حالات کو بہتر بنانے کا کام اکیلے حکومت نہیں کر سکتی، تمام لوگوں کو مل کر اس کے لیے کام کرنا چاہیے ، سبھی لوگوں نے کشمیر کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، اس میں ضرور کامیابی حاصل ہوگی۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان یوم سیاہ منا رہا ہے۔یہ ہندوستان کے اندرونی معاملے میں مداخلت ہے، پاکستان ہندوستان میں دراندازی بڑھانا چاہتا ہے، لیکن ناکام رہا ہے اس لیے وہ پریشان ہے۔سیکورٹی فورسز نے ایسی 86کوششوں کو ناکام بنایا دیا ہے ۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ برہان وانی ایک بدنام زمانہ دہشت گرد تھا جو حزب المجاہدین کا رکن تھا۔وہ پاکستان کی ہدایت پر ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دیتا تھا، وہ جنوبی کشمیر میں حزب المجاہدین کا کمانڈر تھا، اس کے خلاف 15سنگین مقدمات درج تھے۔وہ سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ہتھیاراٹھانے کے لیے کہتا تھا۔حال ہی میں حافظ سعید نے کہا تھا کہ کچھ دن پہلے برہان سے اس کی بات ہوئی تھی۔سیکورٹی فورسز نے ان پٹ کی بنیاد پر علاقے کو گھیرا اور دہشت گردوں کی نشاندہی کی گئی اور تصادم میں دہشت گرد مارے گئے۔راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کے کئی جوان شہید ہوئے، بھیڑ کو روکنے کے لیے پیلیٹ بندوق کا استعمال کیا گیا، لوگ زخمی ہوئے، لیکن موت ایک کی ہوئی، کل 53زخمی ہیں، جن میں 23کی ایک آنکھ میں چوٹ لگی۔اس سے پہلے بھی پیلیٹ گن کا استعمال 2010میں بھی ہوا تھا۔موت 6کی ہوئی تھی، 198لوگوں کی آنکھ میں چوٹ لگی تھی، بہت سے لوگ مکمل طور پر بینائی سے محروم ہو گئے تھے۔یہ بندوق نان لیتھل کے زمرے میں آتی ہے، لیکن اب ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بنے گی وہ دیکھے گی کہ دوسرا آپشن کیا ہے؟۔ دو ماہ میں اس کی رپورٹ آجائے گی۔