نئی دہلی، 17مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مرکزی وزیر ارون جیٹلی اور سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی کے درمیان آج دہلی ہائی کورٹ میں تیکھی بحث ہوئی۔ یہ بحث دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کے خلاف ہتک عزت کے معاملے میں جیٹلی سے جرح کے دوران ہوئی۔کجریوال اور آپ کے دیگر لیڈران کے خلاف دائر 10 کروڑ روپے کے ہتک عزت کے مقدمے میں جیٹلی کا بیان درج نہیں ہو سکا کیونکہ وزیر نے وزیر اعلی کی نمائندگی کر رہے معروف وکیل کی طرف سے ان کے خلاف استعمال کئے گئے لفظ پر اعتراض کیا۔جوائنٹ رجسٹرار دیپالی شرما کے سامنے حاضر وزیر خزانہ اپناآپا کھو بیٹھے اور جیٹھ ملانی سے پوچھا کہ کیا کجریوال سے ہدایات لے کر ان کے خلاف اس لفظ کا استعمال کیا گیا۔جیٹلی نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو میں مدعا علیہ(کجریوال) کے خلاف الزامات کو بڑھا دوں گا۔انہوں نے کہا کہ ذاتی بدنیتی کی بھی ایک حد ہے۔جیٹلی کی نمائندگی کر رہے سینئر وکیل راجیو نائر اور سندیپ سیٹھی نے بھی کہا کہ جیٹھ ملانی نامناسب سوال کر رہے ہیں اور انہیں خود کو غیر متعلقہ سوال پوچھنے سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ یہ معاملہ ارون جیٹلی بمقابلہ اروند کجریوال ہے اور یہ رام جیٹھ ملانی بمقابلہ ارون جیٹلی نہیں ہے۔ اس پر جیٹھ ملانی نے کہا کہ انہوں نے اس لفظ کا استعمال کجریوال کی ہدایت پر کیا ہے۔آپ لیڈروں کا دفاع کر رہے جیٹھ ملانی سمیت وکلاء کے ایک گروپ نے یہ بھی کہا کہ جیٹلی اپنی مبینہ بدنامی کے لئے 10 کروڑ روپے کے دعوے کے حقدار نہیں ہیں۔جیٹلی نے کجریوال اور پانچ دیگر آپ لیڈران راگھو چڈھا، کمار وشواس، آشوتوش، سنجے سنگھ اور دیپک واجپئی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرکے 10 کروڑ روپے کے معاوضہ کی مانگ کی تھی۔ان لیڈروں نے سال 2000 سے 2013 تک ڈی ڈ ی سی اے کا صدر رہنے کے دوران جیٹلی پر مالی بے ضابطگیاں کرنے کا الزام لگایا تھا۔