ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / گجرات میں دلتوں پر مظالم کے 100میں سے 95مقدمات میں چھوٹ جاتے ہیں ملزم

گجرات میں دلتوں پر مظالم کے 100میں سے 95مقدمات میں چھوٹ جاتے ہیں ملزم

Mon, 25 Jul 2016 12:40:14    S.O. News Service

نئی دہلی،24؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )وزیر اعظم نریندرمودی کی آبائی ریاست گجرات میں اعلی ذات کے ہندو گؤ رکشاکارکنوں کے ذریعہ دلت نوجوانوں کی وحشیانہ پٹائی کے معاملے پر پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک ہنگامہ اور کئی مقامات پرپر تشدد احتجاج کاسلسلہ جاری ہے،لیکن ایک ویب سائٹ 'انڈیا اسپنڈ ‘کی ایک رپورٹ سے خلاصہ ہوا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں میں دلتوں اور قبائلیوں کے خلاف فوجداری مقدمات میں سزا کی شرح گجرات میں ملکی اوسط سے 6 گنا کم ہے۔حالیہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، 2014میں گجرات میں دلتوں کے خلاف ہوئے جرائم میں صرف 3.4فیصد معاملے میں ہی سزا ملی تھی، جبکہ اس طرح کے معاملات میں سزا کی ملکی شرح 28.8فیصد تھی۔اسی طرح قبائلیوں کے خلاف ہوئے جرائم میں سزا کے ملکی اوسط کی شرح 37.9فیصد تھی جبکہ گجرات میں یہ شرح صرف 1.8فیصد ہی تھی۔گزشتہ 11؍جولائی کو ہنگامہ اس وقت شروع ہواتھا جب ایک مردہ گائے کی کھال اتارنے کے الزام کے تحت گؤ رکشا کے کارکنوں نے چار دلت نوجوانوں کو کار سے باندھ دیا اور کپڑے اتار کر ان کی پیٹھ کی چمڑی ادھیڑ دی۔بعد میں اعلی ذات کے گؤ رکشا کارکنوں نے دلتوں اور مسلمانوں کودھمکی دینے کے لیے پٹائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی ۔اس کے علاوہ اب گزشتہ مئی میں ہوئے ایک اور حملے کا ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے۔گجرات حکومت نے مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، لیکن ظاہر ہوتا ہے کہ گؤ رکشا کارکنوں کی حوصلہ کی جڑ گجرات کے مجرمانہ نظام میں پیوست ہے جو نچلی ذات کے ہندوں اور قبائلیوں کے خلاف جرائم پر توجہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ایسی ہی ناکامی مہاراشٹر اور کرناٹک میں بھی دیکھنے کو ملی ہے۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق، 2014میں ختم ہونے والی دہائی میں گجرات میں دلتوں کے خلاف مجرمانہ مقدمات میں سزا کی شرح 5فیصد اور قبائلیوں کے خلاف اس طرح کے معاملات میں سزا کی شرح 4.3فیصد ہے جبکہ قومی اوسطا شرح باالترتیب سے 29.2فیصد اور 25.6فیصد ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ 100مقدمات میں سے 95مقدمات ملزم بری ہو جاتے ہیں۔ گجرات میں دلتوں کے خلاف فوجداری مقدمات میں سب سے کم سزا کی شرح 2011میں 2.1فیصد تھی اورآدی واسیوں کے خلاف فوجداری مقدمات میں سب سے کم سزا کی شرح 2005میں 1.1فیصد تھی۔تعزیرات ہند کی دفعہ کے تحت درج تمام فوجداری مقدمات میں سزا کی اوسطاقومی شرح 2014میں 45.1فیصد تھی۔کرناٹک اور مہاراشٹر میں بھی دلتوں اور قبائلیوں کے خلاف فوجداری مقدمات میں سزا کی شرح گجرات جیسی ہی 5فیصد ہے، جبکہ اس طرح کے معاملات میں اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں سزا کی شرح 50فیصد ہے۔دلتوں کے انسانی حقوق پر قومی مہم کے کنوینر پال دیواکر نے ناقص چارج شیٹ اور تحقیقات کا حوالے دیتے ہوئے کہاکہ عدالتی نظام میں ہر سطح پر دلتوں اور قبائلیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔


Share: