مدھیہ پردیش میں 2 مسلم خواتین کی پٹائی پر راجیہ سبھا میں بی ایس پی اور کانگریس نے سرکارکوگھیرا
حکومت دلتوں اوراقلیتوں کے اعتمادکی بحالی کے لئے مصروفِ عمل،مختارعباس نقوی کاجواب
نئی دہلی، 27؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )مدھیہ پردیش میں گؤ رکشا کے نام پر دو مسلم خواتین کو مبینہ طور پر پٹائی کئے جانے کے واقعہ پر احتجاج کرتے ہوئے اپوزیشن بی ایس پی اور کانگریس کے اراکین نے آج راجیہ سبھا میں اسپیکر کے سامنے آ کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور الزام لگایا کہ گؤ رکشا کے نام پر دلتوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ایوان کی کاروائی شروع ہونے کے بعد ضروری دستاویزات میز پر رکھوائے گئے۔فوری طور پر بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ گجرات کے اونا میں دلت نوجوانوں کی پٹائی کے واقعہ کے بعد مدھیہ پردیش میں 2 مسلم خواتین کو گائے کا گوشت رکھنے کے شبہ میں گؤ رکشا کمیٹی کے ایک گروپ نے پیٹا۔مایاوتی نے الزام لگایا کہ مندسور ریلوے اسٹیشن پر پولیس کے سامنے یہ واقعہ ہوا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف بی جے پی لڑکیوں کے تحفظ اور خواتین کی احترام اور وقار برقرار رکھنے کی بات کرتی ہے اوروہیں دوسری طرف بی جے پی کی حکمرانی والی ریاست میں خواتین کے ساتھ غنڈے بدسلوکی کرتے ہیں۔بی ایس پی لیڈرنے کہا کہ اس واقعہ سے کچھ ہی دن پہلے گجرات کے اونا میں چار دلت نوجوانوں کی پٹائی کا واقعہ سامنے آیا تھا ۔کانگریس اراکین نے مایاوتی کی بات کی تائید کی۔مایاوتی نے پارلیمانی امور کے وزیر مملکت مختار عباس نقوی سے سوال کیا کہ ان کی کمیونٹی کی خواتین کو گؤ رکشا کے نام پر نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟۔مایاوتی کے اپنی بات پوری کرتے ہی بی ایس پی رکن اسپیکر کے سامنے آ گئے۔پھر کانگریس کے رکن بھی اسپیکر کے سامنے آ گئے۔مدھیہ پردیش کے واقعہ پر احتجاج کرتے ہوئے ان اراکین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔
کانگریس کے آنند شرما نے کہا کہ وزیر اعظم گؤ رکشا کے نام پر دلتوں پر ہو رہے حملوں کے بارے میں کیوں نہیں بولتے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے تو چائے پر چرچا کی ہے، وہ من کی بات کرتے ہیں لیکن اس معاملے پر وہ کیوں نہیں بولتے۔ڈپٹی چیئرمین پی جے کورین نے کہا کہ وقفہ صفر میں اپنے اپنے مسائل کو اٹھانے کے لیے 13اراکین نے نوٹس دیاہے اور وقفہ صفر میں خلل ڈالنا صحیح نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر رکن اس معاملے پر بحث چاہتے ہیں تو انہیں نوٹس دیناچاہیے۔کورین نے ہنگامہ کر رہے اراکین سے کہا کہ آپ اپنی سیٹ پر جائیں۔میں حکومت سے جواب دینے کے لیے کہوں گا۔ڈپٹی چیئرمین نے مایاوتی اور ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد سے کہا کہ وہ اپنی اپنی پارٹیوں کے اراکین کو واپس بلائیں۔آزاد نے کہا کہ ان کی پارٹی نظریاتی طور پر گؤ رکشا کے خلاف نہیں ہے لیکن وہ گؤ رکشا کے نام پر دلتوں اورمسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کے خلاف ہے۔حزب اختلاف کے لیڈر نے کہاکہ ہم گؤ رکشا کے خلاف نہیں ہے لیکن گؤرکشا کی آڑ میں ہم دلتوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کے خلاف ہیں۔اسپیکر کے سامنے نعرے بازی کر رہے اراکین کے اپنی جگہ پر لوٹ جانے کے بعد پارلیمانی امور کے وزیرمملکت مختار عباس نقوی نے کہا کہ ملک کو لاٹھی ڈنڈوں سے نہیں بلکہ قانون اور آئین کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔نقوی نے کہا کہ کسی بھی ریاست میں کسی بھی طور پر تشدد ہوتا ہے تو وہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم دلتوں اور خواتین کے خلاف تشدد کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہراتے۔پارلیمانی امورکے وزیرمملکت نے کہا کہ مبینہ معاملے میں مدھیہ پردیش حکومت نے فوری کارروائی کی اور ایک معاملہ درج کیاہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ترقی اور دلتوں اور مسلمانوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے مصروف عمل ہے۔نقوی نے اپوزیشن اراکین سے درخواست کی کہ وہ ایسے حساس معاملات پر سیاست سے اوپر اٹھیں اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کو نقصان نہ پہنچائیں۔