ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کشمیرمیں بے دردی کے ساتھ طاقت کااستعمال ہوا،ملک کی دیگرتحریکات میں جداگانہ رویہ کیوں؟ 

کشمیرمیں بے دردی کے ساتھ طاقت کااستعمال ہوا،ملک کی دیگرتحریکات میں جداگانہ رویہ کیوں؟ 

Mon, 18 Jul 2016 21:02:58    S.O. News Service

ذاکر نائیک پر تحقیقات کی بات تو صحیح ، دوسرے لوگوں پر انکوائری کیوں نہیں:غلام نبی آزاد
تسلیمہ نسرین کے ذریعہ اسلام کوگالی دلوانے کیلئے حکومت بھی مجرم،کانگریس کا راجیہ سبھامیں سرکارپرچوطرفہ حملہ

نئی دہلی18جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج سے شروع ہو گیا۔راجیہ سبھا میں کشمیر کے تشدد کو لے کر بحث ہوئی۔کانگریسی لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ کشمیر میں تشدد کو قابو میں لانے کے لئے بہت ہی بے دردی سے طاقت کا استعمال کیا گیا۔غلام نبی آزاد نے کہاکہ کسے کیا کرنا ہے، اس تشدد میں پاکستان کا کیا رول ہے، مرکز اور ریاستی حکومت کو کیا کرنا ہے۔میں کسی کو مجرم نہیں ٹھہرارہاہوں۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم لوگ تشدد کو ختم کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ ہیں۔لیکن عوام کے ساتھ ایسا سلوک ہوگا تو کس طرح چلے گا۔کوئی بھی تشدد کا سپورٹ نہیں کرتا، اور نہ ہم، نہ اپوزیشن اور نہ کوئی اور۔آزاد نے مزید کہاکہ دہشت گردوں اور عوام کے ساتھ سلوک میں فرق ہونا چاہئے۔ 6سال کے بچے، بزرگ اور خواتین کے ساتھ دہشت گردوں جیسے رویے ۔آزاد نے کہا کہ آج کشمیر میں جو حالات ہیں، ویسے حالات 1990میں بھی نہیں تھے۔آزاد نے دعویٰ کیا کہ کوئی ملٹیسی کی حمایت نہیں کرتا ہے۔کانگریس نے جوکیا وہ یہ حکومت کبھی نہیں کر پائے گی۔ملٹیٹ اورعام آدمی میں فرق ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔کانگریسی لیڈر نے کہا کہ کشمیر کے تمام ہسپتال بھرے ہوئے ہیں۔ان واقعات میں 1800افراد زخمی ہوئے ہیں۔پیلیٹ گن کے یہ لوگ شکار بنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں ایسا نہیں ہوا۔بڑی تحریک تھی لوگ مارے گئے، لیکن ایسا یہاں پر استعمال نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس، این سی کے راج میں ایسا نہیں تھا۔ملٹیٹ مارے جاتے تھا لیکن اب ماحول خراب ہوا ہے۔انہوں نے کہ ہندوستان میں آئی ایس آئی ایس نہ ہونے کے برابرہے۔اس سے بڑی حب الوطنی کی اور کوئی مثال نہیں ہوگی۔بھارت اورکشمیر کے مسلمانوں کیلئے فخر کی بات ہے۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ کشمیر میں لوگوں کا اعتماد جیتنے میں صدیوں لگے گا۔کشمیر میں حکومت کو جتنی طاقت کا استعمال کیا اس سے زیادہ استعمال کیاگیا۔یہ بات حکومت نے خود مان لی ہے۔آخر کیوں ملک کے کسی اور حصے میں ایسا نہیں ہوتا۔لوگ اتنی مصیبت میں ہیں کہ10دنوں کے کرفیو کے بعد بھی لوگ ناراض ہیں۔لوگ پریشان ہے، کھانا نہیں ہے، دودھ نہیں ہے پھر لوگ ناراض ہیں۔
پریس کی آزادی پر آزاد نے کہا کہ اخبار بند ہے، انٹرنیٹ بند ہے۔انہوں نے کہا کہ پریس کی آزادی ملک کے سقوط کی وجہ نہیں بننا چاہئے۔آج پرائم ٹائم میں ٹی وی چینل لوگوں کو لڑانے کا کام کر رہے ہیں۔غلام نبی آزاد نے کہاکہ ذاکر نائیک پرتحقیقات کی بات تو صحیح ہے، لیکن دوسرے لوگوں پر انکوائری کیوں نہیں۔یک طرفہ انکوائری ہونا صحیح نہیں ہے۔تسلیمہ نسرین کوبنگلہ دیش نے اسلام کے خلاف لکھنے، قرآن کے خلاف لکھنے کیلئے ملک سے نکالاگیا۔اب وہ بھارت میں رہ رہی ہیں۔اب یہاں ملک کے چینل انہیں اسلام کو گالی دینے کے لئے بلاتے ہیں۔اس کے لئے بھی مرکزی حکومت مجرم ہے۔آزاد نے کہا کہ پاکستان کا وجود ہی سب بیماریوں کی جڑ ہے۔پاکستان الگ ہو گیا لیکن اب وہ بھارت کو چھوڑ دے۔پاکستان کے سہارے بھارت کا مسلمان زندہ نہیں رہنا چاہتا۔آپ کو آپ کی فکر کریں، ہمیں ہماری فکر کرنے دیں۔پاکستان میں سیاہ دن کے معاملے پر آزاد نے کہا کہ وہاں کے حالات ایسے ہیں کہ وہاں روزانہ سیاہ دن منائیں گے تب بھی صورت حال نہیں بہتر ہوگی۔آزاد نے حکومت نے مطالبہ کیا کہ اگر ریاست میں زیادہ فورس کا استعمال ہوا ہے تو کسی کوذمہ دار بھی بنایا جائے اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔


Share: