ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کشمیر کے حالات پر بات کرتے ہوئے محبوبہ نے بہائے آنسو

کشمیر کے حالات پر بات کرتے ہوئے محبوبہ نے بہائے آنسو

Fri, 22 Jul 2016 20:21:55    S.O. News Service

سری نگر ، 22؍جولائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)جموں و کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اس وقت اپنے آنسو نہیں روک پائیں، جب وہ سری نگر میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ کشمیر کے حالات پر بحث کر رہی تھیں، اور ان سے درخواست کر رہی تھیں کہ وہ سب کے سب اپنے اپنے اچھے تعلقات کا سہارا لیں، اور اس بحران کو ختم کرائیں۔مرکز میں نریندر مودی حکومت کی قیادت کر رہی ہے بی جے پی کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر میں حکومت چلانے والی پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہاکہ میں آپ سب سے درخواست کرتی ہوں کہ اپنے تعلقات کو استعمال کریں،ہمیں اس بحران سے نمٹنا ہی ہوگا، ہمیں بات کرنی چاہیے ، را ہ کھولنے کے بارے میں، پاکستان سے بات چیت کے بارے میں،اس کے علاوہ حکومت ہند سے دیگر مسائل کے بارے میں بھی۔اپوزیشن نیشنل کانفرنس نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا، سینئر پارٹی لیڈر ناصر اسلم نے کہاکہ ہمارے کارگزار چیئرمین عمر عبداللہ نے وزیر اعلی سے کہا تھا کہ صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے قدم اٹھائیں، لیکن انہیں جواب دینے میں اور اس کل جماعتی میٹنگ بلانے میں دو ہفتے لگ گئے، اب بہت دیر ہو چکی ہے، بہت سے لوگ مارے جا چکے ہیں، اور زخمی ہو چکے ہیں۔پانچ گھنٹے تک جاری رہی میٹنگ کے فورا بعد وزیر اعلی نے جنوبی کشمیر کے اننت ناگ کا دورہ کیا، جو اسی مہینے کے آغاز میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کے موت کے بعد سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہوئی جدوجہد کا مرکز رہا ہے۔گزشتہ دو ہفتوں میں اب تک ان پرتشدد جھڑپوں میں 45لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں ، اور 2000سے بھی زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔مظاہروں اور جدوجہد کی کئی وارداتیں ہو جانے کے بعد پہلی بار عوام کے درمیان پہنچیں وزیر اعلی نے سیکورٹی فورسز کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے لوگوں کے خاندانوں سے مل کر تعزیت کا اظہار کیا۔سری نگر میں ہوئی اس میٹنگ میں انہوں نے بہت سے لوگوں کے بارے میں باتیں کی تھی، اور اس بات چیت میں ان بچوں کا ذکر بھی شامل تھا، جن کی آنکھوں کی روشنی سیکورٹی فورسز کی پیلیٹ گن کی وجہ سے ضائع ہو گئیں ۔ویسے یہ مسئلہ کشمیر معاملے پر بحث کے دوران پارلیمنٹ میں بھی اٹھا تھا۔وزیر اعلی نے بتایاکہ 30سے بھی زیادہ لوگوں کی ایک آنکھ کی روشنی ضائع ہو گئی ہے، جبکہ کم سے کم تین لوگوں کی دونوں آنکھیں خراب ہو گئی ہیں۔اپنے اننت ناگ دورے میں وزیر اعلی نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ کچھ لوگ جوان بچوں کی لاشوں پر صرف سیاست کرنا چاہ رہے ہیں جبکہ درد کے ساتھ تو ساری عمر ان جوان بچوں کے خاندانوں کو جینا ہے۔


Share: